.

زم زم کے پانی سے مقامات مقدسہ کی دلفریب پینٹنگز

ملائیشین آرٹسٹ کی زمزم سےحیرت انگیز خطاطی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زم زم کے پانی کو اب تک صرف پینے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ملائیشیا کے ایک مصور اور آرٹسٹ نے مقدس پانی کو اپنے فن کے فروغ کے لیے پہلی بار استعمال کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملائیشین فن کار عبدالحلیم بن عمرنے اپنے فن مصوری اور خطاطی کے لیے زمزم کے استعمال کا شرعی جواز معلوم کیا۔ علماء نے بتایا کہ زمزم کو خطاطی اور مقدس مقامات کی پینٹنگ کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنے دست ہنر سے زمزم سے تیار کردہ روشنائی سے خانہ کعبہ، غلاف کعبہ، ملتزم، مسجد نبوی اور دیگر ان گنت مقدس مقامات کی دلفریب پینٹنگز تیار کی جن کا چار دانگ عالم میں چرچا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عبدالحلیم بن عمر نے بتایا کہ اس نے یہ کام پانچ سال قبل شروع کیا۔ زمزم کو پینٹنگز کے لیے استعمال میں لانے سے قبل مقامی علماء سے فتویٰ حاصل کیا۔ علماء نے اسے جائز قرار دیا۔ اس کے بعد بن عمر نے زمزم سے مقدس مقامات کی مصوری اور خطاطی شروع کی۔ اس نے اپنی تیار کردہ دلفریب پینٹنگز ملائیشیا مسجد قبا کے باہر عام لوگوں کے سامنے پیش کیں جنہیں غیرمعمولی حد تک پسند کیاگیا۔

ایک سوال کے جواب میں بن عمر نے کہا کہ زمزم کو پینٹنگز میں استعمال کرنا میری دیرینہ خواہش تھی۔ اس کی تیار کردہ مقدس مقامات کی پینٹنگز ملک بھرمیں ہونے والی نمائشوں میں پیش کی گئیں۔ وہ فن مصوری اور خطاطی ک ساتھ ساتھ جامعات ، اسکولوں اور فلاحی اداروں کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

بن عمر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فن پاروں کو مصر، دبئی اور سعودی عرب جیسے ملکوں میں متعارف کرانا چاہتا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ یہ فن میرے دل سے پھوٹا اور یہ فن اللہ سے میرے تعلق کا وسیلہ بنا ہے۔ اللہ رب العزت کی طرف سے میرے لیے گراں بہا تحفہ ہے۔

عبدالحلیم بن عمر نے کہا کہ میں جب بھی زم زم سے کسی پینٹنگ پر کچھ لکھتا ہوں تو اللہ کا نام بار بار لیتا ہوں۔ میں نے ایک پینٹنگ میں لفظ ’اللہ‘ جلالہ کو 40 لاکھ بار لکھا اور اس پینٹنگ کو ملک بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔

ملائیشین آرٹسٹ کا کہنا ہے کہ اس کا اگلا ہدف زم زم سے قرآن پاک لکھنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں خانہ کعبہ کو بیت الحرام سے براہ راست سامنے دیکھ کر زمزم سے اس کی پینٹنگ بناؤں۔