.

تاریخ کا گواہ "بابِ مكہ".. تصاویر کے آئینے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں واقع "بابِ مکّہ" کا علاقہ مختلف ادوار میں ہونے والی تجدید اور ترامیم کے بعد اب بھی تاریخی یادگار کی حیثیت کا حامل ہے۔

اس کی تعمیر 1509ء میں ہوئی جب سلطنتِ مملوک کے حکمراں نے جدہ کو پرتگالیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شہر کے گرد مشہور دیوار بنوائی۔ اُس وقت جدہ شہر کے مملوک گورنر امیر حسین الکردی نے دیوار بنا کر اس کے دو دروازے رکھے۔ ان میں پہلا سمندر کی سمت اور دوسرا مکہ مکرمہ کی سمت تھا۔ یہ دوسرا دروازہ ہی اب "بابِ مكہ" کے نام سے معروف ہے۔ یہ دونوں دروازے عشاء کے وقت مقفل کر دیے جاتے اور پھر فجر کے وقت دوبارہ کھول دیے جاتے تھے۔

بعد ازاں جدہ کی دیوار میں مرحلہ وار 4 مزید دروازوں کا اضافہ کیا گیا۔ تاہم باب مکہ ان میں مشہور ترین اور خوب صورت ترین ہی رہا۔ اس میں مختصر بلندی کے دو ٹاور ہیں جن پر نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ مکہ مکرمہ کا رخ کرنے والے حجاج اور معتمرین بھی اسی دروازے کے راستے گزرتے تھے۔ علاوہ ازیں یہ دروازہ الاسد قبرستان لے جانے والے جنازوں کی گزرگاہ بھی تھا جو اُس وقت جدہ کا واحد قبرستان تھا۔

بابِ مکہ اب جدہ شہر کے ایک اہم ترین سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ خریداری کے لیے ایک عوامی مرکز اور ثقافتی ورثے کی فضاؤں کے متلاشی افراد کے لیے ایک ٹھکانہ بن گیا ہے۔ اس کے اطراف میں بہت سے مشہور بازار موجود ہیں جن میں سوق البدو، سوق قابل، سوق العلوی ، سوق الندی اور الخاسکیہ شامل ہیں۔ یہ جدہ شہر کی قدیم یادگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

سیاحوں ، حجاج اور معتمرین کے علاوہ جدہ شہر کی مقامی آبادی کی اکثریت "باب مکہ" کے علاقے میں بالخصوص رمضان کی راتوں میں پیدل گھومنے کا شوق رکھتی ہے۔ یہاں کی فضاؤں پر اب بھی حجازی عوامی چھاپ نظر آتی رہے۔ اس کے علاوہ قُمقموں اور خیر مقدمی بورڈ سے مزین شاہراہیں اس علاقے میں آنے والوں کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہیں۔

یاد رہے کہ مذکورہ مشہور دیوار 4 صدیوں سے زیادہ عرصے تک جدہ شہر کو تمام سمتوں اپنے احاطے میں سمیٹے رہی۔ آخرکار اس دیوار کو تعمیراتی علاقے میں داخل ہونے کے سبب مستقل طور پر ختم کر دیا گیا۔