.

نو رمضان المبارک : اسلامی تاریخ میں کیا واقعات پیش آئے تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نو رمضان المبارک کو اسلامی تاریخ میں مختلف اہم واقعات پیش آئے تھے۔ 212 ہجری میں اس تاریخ کو مسلمانوں نے سلسلی ( صقلیہ) کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ 559ہجری میں فسطاط شہر کا محاصرہ ختم کردیا گیا تھا اور 1350 ہجری میں معروف عالم دین شیخ یوسف النبہانی کا انتقال ہوا تھا۔

تاریخ کے محقق وسیم عفیفی بتاتے ہیں کہ نو رمضان المبارک 212 ہجری کو اسد بن الفرات نے جزیرہ صقلیہ پر فاتحانہ یلغار کی تھی اور اس کو مفتوح کر لیا تھا۔اس سے شمالی افریقا کا اٹلی کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم ہوگیا تھا اور اس فتح کی بڑی تجارتی اور ثقافتی اہمیت تھی۔

عفیفی کے مطابق نو رمضان 559 ہجری کو مصر کے دارالحکومت فسطاط کا محاصرہ ختم کردیا گیا تھا۔فاطمین مصر کی حکومت سیاسی ، اقتصادی اور عسکری لحاظ سے ختم ہوگئی تھی اور اقتدار ان کے ہاتھ سے جاتا رہا تھا۔ فاطمی وزیر شاور اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے اور اپنے مخالف فریقوں کو ایک دوسرے کے خلاف لا کھڑا کرنے کی شہرت رکھتا تھا۔

بیت المقدس میں صلیبی بادشاہ عمالرک اول نے مصر کی جانب چڑھائی کردی اور اس کا جواز یہ پیش کیا کہ شاور نے اس کو محصولات ادا نہیں کیے تھے۔اس پر شاور نے دمشق کے سلطان نورالدین زنگی کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن نورالدین اس کی چال کو سمجھ گئے تھے اور وہ جان گئے تھے کہ شاور دونوں سے کھیلنے کی کوشش کررہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے شاور ،فاطمین اور صلیبیوں کے قلع قمع کا فیصلہ کیا۔انھوں نے اسدالدین شیر کوہ اور صلاح الدین کی قیادت میں ایک لشکر مصر کی جانب روانہ کیا۔

شاور نے صلیبیوں کو قاہرہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے فسطاط کو جلانے کا حکم دے دیا۔اس نے شہر کے مکینوں سے کہا کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر قاہرہ کی جانب اٹھ آئیں۔ پھر دس ہزار بموں اور آتش گیر مادے کے بیس ہزار کنستروں کے ذریعے فسطاط شہر کو آگ لگا دی۔ شہر میں 54 روز تک آگ جلتی رہی تھی اور یہ نو رمضان المبارک 559 ہجری کو بجھی تھی۔فسطاط میں صرف حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ کی تعمیر کردہ ایک مسجد باقی بچی تھی اور باقی سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا تھا۔اس جرم اور دوسرے جرائم کی پاداش میں صلاح الدین ایوبی نے شاور کا سرقلم کردیا تھا۔

نو رمضان المبارک 1350 ہجری کو اسلامی علوم کے ماہر اور جج یوسف النبہانی کی وفات ہوئی تھی۔ وہ 1265 ہجری ( 1850ء) میں حیفا کے علاقے اجزم میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے قرآن مجید اپنے والد سے پڑھا تھا اور وہ ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے 1283ہجری میں جامعہ الازہر قاہرہ چلے گئے تھے۔ وہ وہاں چھے سال تک زیر تعلیم رہے تھے اور 1289 ہجری میں فلسطین لوٹے تھے ۔ پھر وہ عکا شہر میں مقیم ہوگئے تھے اور وہاں عربی اور دینی علوم پڑھاتے رہے تھے۔

وہ جنین میں عدلیہ میں بھی کام کرتے رہے تھے ۔بعد میں وہ اخبار الجوانب کے مدیر مقرر ہوئے تھے۔پھر وہ موجودہ عراق کے شہر موصل میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں جج مقرر ہوئے تھے۔وہ خلافت عثمانیہ کے دارالحکومت استنبول ، بیت المقدس ، بیروت اور مدینہ منورہ میں بھی مقیم رہے تھے۔ وہ پہلی عالمی جنگ کے آغاز تک مدینہ منورہ ہی میں قیام پذیر رہے تھے اور پھر اپنے آبائی علاقے اجزم لوٹ آئے تھے جہاں وہ 1350 ہجری ( 1932ء) میں اپنی وفات تک مقیم رہے تھے۔