.

مسیحی عرب 14 برس سے مسلمانوں کو سحری میں بیدار کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اراضی میں شمالی اسرائیل کے ریجن الجلیل کے شمال میں "عکا" کا شہر تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس شہر کے قریب واقع گاؤں المکر میں سحر کے اوقات میں مسیحی عرب شہری میشیل ایوب کی آواز گونجتی سنائی دیتی ہے۔

ایوب نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ وہ 14 برس سے رضاکارانہ طور پر مسلمانوں کو سحری میں بیدار کرنے کا کام کر رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ " مجھے بچپن سے ہی رمضان کی فضا میں انوکھی شان محسوس ہوتی تھی بالخصوص سحری کے اوقات میں جب بیدار کرنے والے آتے تھے۔ بعد ازاں یہ پیشہ ختم ہو گیا تو میں نے اپنا فرض سمجھا کہ مسلمان بھائیوں کو سحری کے وقت جاگنے میں ان کی مدد کروں"۔

میشیل ایوب روزانہ رات ایک بجے بیدار ہو کر تیار ہوتا ہے پھر صبح چار بجے تک المکر گاؤں کی سڑکوں پر اپنی خوب صورت آواز میں صدائیں لگاتا پھرتا ہے۔ اس پر اکثر لوگوں بڑے مثبت انداز میں ایوب کو جواب دیتے ہیں اور بعض لوگ تو اپنے ساتھ سحری کھانے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔

بعد ازاں ایوب واپس گھر لوٹ کر چند گھنٹے کی نیند لیتا ہے اور پھر چہرے پر مسکراہٹ لیے اپنے کام پر روانہ ہو جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ایوب نے واضح کیا کہ " یقینا میرا پیغام امن ہے۔ میں عرب دنیا میں مکمل امن دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔ جہاں قتل و غارت گری نہ ہو۔ ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کر رہا ہے.. یہ ناممکن ہے ! اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم سب کے بیچ امن کا دور دورہ ہو"۔

میشیل ایوب نے قرآن کریم کی آیات بھی یاد کر رکھی ہیں۔ وہ مسکراتے چہرے اور بڑے فخر کے ساتھ کہتا ہے " آپ کی عید میری عید ہے"۔