.

تاریخ میں 12 رمضان کے اہم واقعات ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تاریخ میں 12 رمضان کا دن کئی اہم واقعات کا حامل ہے۔ ان میں نمایاں ترین 13 ہجری میں مسلمانوں اور فارس کے لشکر کے درمیان البویب کا معرکہ ، 265 ہجری میں قاہرہ میں جامع مسجد احمد بن طولون کی تعمیراور 597 ہجری میں ابو الفرج بن الجوزی کی وفات شامل ہے۔

تاریخی محقق وسیم عفیفی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سن 13 ہجری میں رمضان سے ایک ماہ قبل معرکہ جسر میں فارس کے مقابل مسلمانوں کی شکست کے بعد مسلمانوں کی صفوں میں نفیر کا اعلان ہوا۔ اس پر جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں سے چار ہزار مسلمان اکٹھے ہوئے اور پھر فارس (ایران) کی جانب روانہ ہو گئے۔ مسلمانوں کی فوج کی قیادت معروف تابعی المثنی بن حارثہ رحمہ اللہ کر رہے تھے ، انہوں نے دریائے فرات کے مغرب میں پڑاؤ ڈالا۔

بعد ازاں اسلامی کُمک آنے کے بعد مسلمانوں کی تعداد 8 ہزار ہو گئی جب کہ فرات کے دوسری جانب فارسں کے لشکر کی تعداد 60 سے 70 ہزار کے درمیان تھی۔ معرکہ شروع ہوا تو مسلمانوں نے فارس کے لشکر کے درمیانی حصے پر کاری ضربیں لگائیں اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دوران جریر بن عبداللہ نے اللہ کے حکم سے فارس کی فوج کے سپہ سالار مہران کو قتل کر دیا جس کے نتیجے میں دشمن کے لشکر کی ہمّت ماند پڑ گئی۔ فارس کی فوج ڈھیر ہونا شروع ہو گئی اور اس کے فوجی فرار کا سوچنے لگے۔ المثنی رحمہ اللہ نے اس موقع پر جا کر اس پُل کو کاٹ دیا جس کے ذریعے دشمن بھاگنے کا سوچ رہا تھا۔ اس طرح فارس کی فوج حصار میں آ گئی اور بالآخر شکست سے دوچار ہوئی۔ معرکے میں فارس کی فوج کے 50 ہزار سے زیادہ ارکان مارے گئے۔

دن تھا 12 رمضان اور سن تھا 265 ہجری (7 مايو 879ء) اس روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جامع مسجد ابنِ طولون کی تعمیر مکمل ہوئی۔ یہ مسجد عمرو اور مسجد عسکر کے بعد مصر میں تعمیر ہونے والی تیسری جامع مسجد تھی۔ یہ مصر کی واحد مسجد ہے جس پر عراقی سامراء طرز کا غلبہ نظر آتا ہے اور اس کا مینار خصوصی انداز سے مڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز 263 ہجری میں ہوا۔ مدت تعمیر کے دوران دو سال میں احمد بن طولون نے اس پر 1.2 لاکھ دینار خرچ کیے۔ یہ سِول انجینئرنگ کے ذریعے تعمیر ہونے والی پہلی مسجد شمار ہوتی ہے۔ اس کا نقشہ ایک قِبطی انجینئر سعید بن کاتب الفرغانی نے تیار کیا تھا۔

سن 597 ہجری میں 12 رمضان کے روز ابو الفرج بن الجوزی نے وفات پائی۔ ان کا پورا سلسلہ نسب یہ ہے.. جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد بن علی بن عبيد الله بن عبد الله بن حمادی بن احمد بن محمد بن جعفر بن عبد الله بن القاسم بن النضر بن القاسم بن محمد بن عبد الله القاسم بن محمد بن ابوبکر صديق رضی الله عنہ.. حنبلی مسلک سے تعلق رکھنے والے یہ فقیہ ، حافظ ، مفسر ، واعظ ، مؤرخ اور ادیب "اِبن الجوزی" کے نام سے معروف ہیں۔ وہ 511 ہجری (1117ء) میں پیدا ہوئے۔ تین سال کے تھے تو والد کا سایہ سر پر سے اٹھ گیا تاہم اس کمی نے ان کی نیک پرورش پر کوئی اثر نہ ڈالا۔ ابن جوزی نے بچپن سے ہی خوفِ خدا اور پرہیزگاری کی حامل زاہدانہ زندگی بسر کی۔ وہ وقت کے ضیاع اور بے ہودہ باتوں میں پڑنے کے خوف سے لوگوں کے ساتھ اختلاط پسند نہیں کرتے تھے۔

ابن جوزی نے دین کے مخلص داعی ، مرشد اور مؤلف کے طور پر زندگی گزاری اور تقریبا 90 برس کی عمر میں بغداد میں اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ ان کی وفات 12 رمضان 597 ہجری کو بروز جمعہ ہوئی۔