.

برطانیہ: مصنف لائیو پروگرام میں اپنی کتاب کھا گیا: ویڈیو

انتخابی نتائج کا تجزیہ غلط ثابت ہونے پرگوڈوین کو کتاب کھانا پڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں برطانیہ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات جہاں وزیراعظم تھریسا مے کی جماعت کی مقبولیت میں کمی ایک بڑی خبر بن سامنے آئی ہیں اس سے بھی بڑی اور حیران کن خبر یہ ہے کہ ان انتخابی نتائج کے رد عمل میں ایک مصنف نے اپنی کتاب ’اسکائی نیوز‘ کے براہ راست نشر ہونے والے پروگرام میں پھاڑ کر کھا ڈالی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دنیا بھر میں عجائبات کی خبروں میں برطانوی مصنف اور تجزیہ نگار ماتھیو گوڈوین کی لائیو پروگرام میں اپنی کتاب کھانے کی خبر کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

ماتھیوں نے برطانیہ میں پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنے انٹرویوز اور ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ قدامت پسند جیرمی کوربین کی قیادت میں قائم لیبر پارٹی 38 فی صد سے زیادہ نشستیں نہیں جیت سکتی۔ فاضل تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ وہ دعوے سے کہتے ہیں کہ لیبر پارٹی کی پارلیمانی انتخابات میں 38 فی صد سےکم ووٹ حاصل کرے گی۔ تاہم اگر وہ اس سے زیادہ ووٹ لینے میں کامیاب رہی تو وہ اپنی کتاب سب کے سامنے پھاڑ کر کھائیں گے۔

اگرچہ ماتھیو گوڈین کا یہ دعویٰ انتخابات سے 27 ماہ قبل سامنے آیا تھا مگر اس وقت بھی یہ کہنا مشکل تھا کہ لیبر پارٹی کتنے فی صد ووٹ لے سکتی ہے۔ اب جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے اور لیبر پارٹی نے 40 فی صد ووٹ لینے میں کامیابی حاصل کی ہے تو اپنی شرط کے مطابق گوڈوین کو اپنی کتاب کھانا پڑی۔

اپنے رد عمل میں مسٹر گوڈوین کا کہنا ہے کہ میں واقعی حیران ہوں کہ کوربین کی جماعت [لیبر پارٹی] میرے اندازوں سے دو فی صد زیادہ ووٹ لینے میں کامیاب رہی ہے، اس کے بعد مجھے فوری طور پراپنی کتاب کھانا پڑی ہے۔

ان کامزید کہنا ہے کہ میں ایک ایسا شخص جو اپنے کہے پرپورا اترتا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب حسب وعدہ مجھے کتاب کھا کر دکھانا ہوگی۔

جب انہوں نے اپنی کتاب کا ایک ورق پھاڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور اسےکھانے کی کوشش کرنے لگے تو انہیں ایسا کرنے میں سخت دشواری ہوئی۔ تاہم ماتھیو گوڈوین کا کہنا تھا میرے لیے کتاب کھانا کوئی مشکل نہیں تھا۔

خیال رہے کہ لیبر پارٹی کے کارکنان کی جانب سے بھی ماتھیو گوڈوین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ انتخابی نتائج خلاف توقع آنے پر اپنا وعدہ ایفاء کریں اور اپنی کتاب خود کھائیں۔