.

قطر کی خارجہ پالیسی کے خالق شیخ حمد بن جاسم کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی تنازعات اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اپنے قد سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں قطر کی سرکردہ شخصیات کے ’’ کارہائے نمایاں‘‘ سے وقت کے ساتھ ساتھ پردہ اٹھ رہا ہے۔قطر کے سابق وزیر خارجہ اور وزیر اعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی بن جاسم کی کچھ عرصہ قبل لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں معمر قذافی کے ساتھ گفتگو کی تفصیل افشاء ہوئی تھی۔اس میں انھوں نے مبینہ طور پر سعودی عرب کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بات کی تھی۔

حمد بن جاسم کو اب قطر کے مقامی پریس میں ملک کے موقف اور پالیسیوں کے دفاع کے ذمے داری سونپی گئی ہے۔ وہ گذشتہ دو عشروں کے دوران میں قطر کی خارجہ پالیسی کے خالق اور کرتا دھرتا رہے ہیں ۔اسی پالیسی پر عمل درآمد کے نتیجے میں ان کے ملک کے ہمسایہ خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں رخنہ آیا ہے اور چار عرب ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

ان چاروں ممالک نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ قطر سے تعلق رکھنے والے 59 افراد اور 12 اداروں کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے۔یہ افراد اور ادارے کسی نے کسی سطح پر دہشت گردی کی مدد و حمایت میں ملوث رہے ہیں۔ اب بن جاسم ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آئے ہیں اور وہ اس معاملے میں قطر کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔

حمد بن جاسم گذشتہ تین عشروں کے دوران میں مختلف سرکاری اور حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔انھوں نے 1982ء میں حکومت میں شمولیت اختیار کی تھیں اور انھیں ڈائریکٹر زراعت اور وزیر برائے بلدیاتی امور مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس عہدے پر 1989ء تک فائز رہے تھے ۔

1990ء میں انھیں پانی اور بجلی کے نائب وزیر کا اضافی عہدہ سونپا گیا تھا ۔1992ء میں بن جاسم کو قطر کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا اور انھوں نے قطر کی موجودہ خارجہ پالیسی وضع کی تھی۔ان کی پالیسیوں کو سابق امیر قطر حمد بن آ ل ثانی اور موجودہ امیر تمیم بن حمد کے ادوار حکومت میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حمد بن جاسم نے 1995ء میں قطر میں شاہی محل کی سازش اور شیخ حمد کو ان کے والد کی جگہ اقتدار دلوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

بن جاسم کی وضع کردہ خارجہ پالیسی کے نتیجے میں قطر کے متعدد عرب ممالک میں موجود اخوان المسلمون کے ارکان کے ساتھ تعلقات استوار ہوئے تھے اور دوحہ میں اخوان کے متعدد سرکردہ رہ نماؤں کو پناہ دی گئی تھی۔انھوں نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور حماس کے ساتھ تعاون بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور پھر قطر کے ایران اور اسرائیل کے ساتھ بھی بیک وقت تعلقات کو فروغ ملا تھا۔

انھیں 2003ء میں قطر کا اول نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا اور 2007ء میں وزیراعظم بنایا گیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ وہ بدستور وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہے تھے۔