چہرے کا پردہ اختلافی مسائل میں شامل ہے: سعودی عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ایک جید عالم دین اور مسجد قباء کے امام وخطیب الشیخ صالح المغامسی نے کہا ہے کہ چہرے کے پردے کے بارے میں اسلام میں اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر دور کے فقہاء میں اس بارے میں اختلاف رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے الشیخ المغامسی نے کہا کہ خواتین کے لیے چہرے کا پردہ کرنا یا چہرہ ڈھانپا واجب نہیں۔ فقہاء میں اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے ہاں چہرے کا پردہ کرنے یا نہ کرنے بارے میں دلائل موجود ہیں۔ علماء کا ایک گروپ چہرے کے پردے کو لازمی قرار دیتا ہے جب کہ چہرے کو نہ ڈھانپے کا قائل گروپ کہتا ہے کہ چہرے کے پردے کے دلائل ناکافی ہیں۔

خیال رہے کہ الشیخ صالح المغامسی کا شمار سعودی عرب کے معتدل علماء میں ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ رواداری اور اعتدال پسندی کی تلقین کرتے اور شدت پسندی سے دور رہنے کی تعلیم دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں