.

ایران کی مسلح بلوچ تنظیم نے عرب معاونت ملنے کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی ایک مقامی عسکری تنظیم ’انصار الفرقان‘ نے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے جس میں الزام عاید کیا گیا تھا کہ ’انصار الفرقان‘ کو عرب ملکوں کی طرف سے معاونت مل رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ بدھ کو بحیرہ عمان کے قریب ایران کے جنوبی صوبہ بلوچستان کی چاہ بہار بندرگاہ پر ایرانی سیکیورٹی فورسز اور بلوچ عسکریت پسند گروپ کے درمیان خونی تصادم کی اطلاعات ہیں۔

ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری فارسی ذرائع ابلاغ نے وزیر برائے انٹیلی جنس امور محمود علوی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ چاہ بہار بندرگاہ پر ’انصار الفرقان‘ نامی گروپ کے ماتحت ایک سیل کے پانچ عسکریت پسندوں کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ دو کو کارروائی میں ہلاک کردیا گیا۔

علوی کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے جنگجو ایک تکفیری دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں ایک عرب ملک کی مادی اور معنوی مدد حاصل ہے۔

ایک صحافتی ذریعے نے ’انصار الفرقان‘ کے فیلڈ کمانڈر مخاوی کلاش سے رابطہ کیا اور ان سے عرب ملکوں کی طرف سے معاونت کے ایرانی دعوے کی تصدیق چاہی۔ کلاش نے محمود علوی کے اس دعوے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا کہ ’انصار الفرقان‘ کو کسی عرب ملک کی طرف سے مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر کے اس بیان کو بھی جھوٹ کا پلندہ قرار دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز نے تنظیم کے پانچ ارکان کو حراست میں لینے کے ساتھ دو کو ہلاک کیا ہے۔

کلاش کا کہنا تھا کہ تنظیم کے تین کارکنوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا مگر انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے لڑتے ہوئے موت کو گرفتاری پر ترجیح دی۔ پانچ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کی باتیں جھوٹ ہیں۔

ذرائع نے مخاوی کلاش کے حوالے سے بتایا کہ تنظیم کے تین جنگجوؤں نے ایک فوجی ہدف پر حملے کی تیاری کی تھی مگر پاسداران انقلاب کی طرف سے انہیں محاصرے میں لے لیا جنہوں نے ایرانی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دے دی۔ ایرانی فورسز نے کسی کارکن کو زندہ گرفتار نہیں کیا۔

خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے بھی انٹیلی جنس وزیر محمود علوی کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے چاہ بہار کے مقام سے ’انصار الفرقان‘ کے پانچ عناصر کو حراست میں لیا ہے۔

عرب ممالک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے جعلی ایرانی اعترافات

’انصار الفرقان‘ کے فیلڈ کمانڈر نے ایرانی انٹیلی جنس وزیر محمود علوی کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے الزام عاید کیا تھا کہ ’انصار الفرقان‘ کو ایک عرب ملک سے مدد مل رہی ہے۔ مخاوی کلاش نے کہا کہ ان کی تنظیم مذہبی اہداف کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ ان کا ہدف صرف فوجی تنصیبات اور ایرانی فوج ہے۔ ہم سویلنز کو حملوں میں نشانہ بنانے کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی یہ ہمارا اصول ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مخاوی کلاش کا کہنا تھا کہ ایرانی انٹیلی جنس وزیر نے جن پانچ افراد کو ’انصار الفرقان‘ کے ارکان قرار دے کر حراست میں لیا ہے ان کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ ایرانی انٹیلی جنس ادارے گرفتار افراد پر تشدد کر کے ان سے اقبالی بیانات حاصل کریں گے اور پھر عرب ممالک بالخصوص خلیجی ملکوں کے خلاف ان اعترافی بیانات کو منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کریں گے۔ ہم واضح کر دیں کہ ہمارے کسی کارکن کو حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی ’انصار الفرقان‘ کا داعش سے کوئی تعلق ہے۔

قصر قند میں جھڑپیں

ایران کے بلوچ ذرائع کے مطابق گذشتہ بدھ کو انصار الفرقان اور ایرانی فوج کے درمیان قصر قند اور ’عزیزی‘ پہاڑی علاقوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ یہ جھڑپیں تادیر جاری رہیں۔ لڑائی میں تین جنگجو مارے گئے جبکہ متعدد جنگجو فوج کا محاصرہ توڑ کر اپنے محفوظ ٹھکانوں پر بہ حفاظت پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک دوسرے ذریعے کے مطابق جنگجوؤں کی کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 12 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

’انصار الفرقان‘ کے فیلڈ کمانڈر کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ گھیراؤ کئے گئے تمام افراد کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی حکام کی طرف سے یہ شوشہ بھی چھوڑا گیا کہ جائے وقوعہ سے 700 کلوگرام دھماکا خیز مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔ ہمارے تین جنگجو جھڑپ میں مارے گئے جب کہ دیگر ارکان محاصرہ توڑ پر بہ حفاظت فرار ہوگئے تھے۔ مخاوی کلاش کا مزید کہنا ہے کہ ایران کا یہ دعویٰ کہ اس نے سات سو کلو گرام بارود قبضے میں لیا ہے سرا سر جھوٹ ہے۔ ہمارے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں، ہم اتنی بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد کیسے حاصل کر سکتے ہیں جب کہ ہمیں کسی دوسرے ملک کی طرف سے کوئی سپورٹ بھی نہیں مل رہی ہے۔

انصار الفرقان کون؟

خیال رہے کہ ’انصار الفرقان‘ نامی گروپ ایران کے سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان میں استحصال کا شکار بلوچ عوام کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد میں سرگرم ہے۔ اس گروپ کی سرگرمیاں زیادہ تر جنوبی بلوچستان کی چاہ بہار بندرگاہ کے قریب شہر قصر قند میں ہیں۔

اس تنظیم کا قیام دسمبر 2013ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ ھشام عزیزی المعروف ابو حفص اس تنظیم کے پہلے سربراہ تھے۔ ’انصار الفرقان‘ حرکت انصار ایران اور حزب الفرقان پر مشتمل ہے۔ ایران اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

تئیس اپریل 2015ء کو ایرانی سیکیورٹی فورسز نے قصر قند میں انصار الفرقان اور اس کے سربراہ ھشام عزیزی کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔ انصار الفرقان افرادی قوت کے اعتبار سے ’جیش العدل‘ کے بعد دوسری بڑی تنظیم ہے۔ جیش العدل میں سابقہ ’’جند اللہ‘‘ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کے اغواء اور قتل کے بعد جند اللہ کو تحلیل کرکے اس کی جگہ جیش العدل نامی تنظیم قائم کی گئی تھی۔