اب پچھتائے کیا ہوت: داعشی بیویاں اپنے ماضی کے فیصلوں پر نادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ کے مصداق عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر گروپ داعش کے جنگجوؤں کی بیویاں اپنے ماضی کے فیصلوں پر ندامت کا اظہار کرنے لگی ہیں۔وہ برضا ورغبت داعش میں شامل ہوئی تھیں یا انھیں زور زبردستی سے جنگجوؤں کی بیویاں بنا لیا گیا تھا،اس سے قطع نظر وہ اب ایک گرداب میں پھنس چکی ہیں اور وہ اپنے خاوندوں کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے آبائی ممالک کو جانا چاہتی ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے جب شمالی شہر موصل کی جانب پیش قدمی کی اور اس کے نواحی دیہات اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تو داعش کے جنگجو اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر یا تو راہ فرار اختیار کر گئے تھے یا پھر انھوں نے اپنے خاندان کو شام منتقل کردیا تھا۔اب ان داعشی جنگجوؤں کی غیرملکی بیویوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے کہ وہ اپنے آبائی ممالک کو لوٹ جائیں لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے ممالک انھیں قبول بھی کریں گے یا نہیں۔

ایک عورت نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ :’’ ہماری اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے کے سوا کوئی خواہش نہیں ہے۔ہمیں یہاں آنے اور اپنے خاوندوں کے ساتھ شامل ہونے کے لیےاپنے فیصلوں پر پچھتاوا ہے‘‘۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے موصل کے قدیم حصے میں واقع علاقے الفاروق پر سوموار کے روز کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔یہ علاقہ تاریخی جامع مسجد النوری کے بالمقابل واقع ہے۔ داعش نے مبینہ طور پر اس مسجد کو گذشتہ ہفتے دھماکوں کے ذریعے شہید کردیا تھا۔

ادھر شام کے شمالی شہر الرقہ میں امریکا کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے داعش کے خلاف لڑائی کے بعد شہر کے ایک چوتھائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔شامی جمہوری فورسز نے تین ہفتے قبل اس شہر پر چڑھائی کی تھی۔

الرقہ میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد نور الہدیٰ القاسم نامی ایک عورت اپنے داعشی خاوند کی مدد سے راہ فرار اختیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔داعش کے اس جنگجو نے صورت حال خراب ہونے کے بعد اپنی بیوی کو مجبور کیا تھا کہ وہ ایک مہاجر عورت کا روپ دھار کر دوسرے شہریوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کر جائے۔

اس خاتون نے مزید بتایا کہ ’’ میرا خاوند میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اس وقت بہتر یہی ہے کہ تم (داعش کی ) ریاست سے کہیں چلی جاؤ اور ہم تمھارے خاندان کے پاس پہنچ جائیں گے اور تمھیں تلاش کر لیں گے‘‘۔

بہت سی عورتوں نے جون 2014ء میں داعش کی خلافت کے اعلان کے بعد رضا کارانہ طور پر اس گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔تب داعش نے شام میں ایک شادی بیورو بھی کھولا تھا اور خواتین کو اپنے جنگجوؤں سے شادی کی ترغیب دی تھی۔

تاہم اس گروپ کے چنگل سے راہ افرار اختیار کرنے والی بہت سی عورتوں نے العربیہ کو بتایا ہے کہ انھیں جب داعش کی حکمرانی میں زندگی کی حقیقت کا پتا چلا تھا تو انھیں اس بات کا بہت جلد احساس ہوگیا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔داعشی جنگجو کی بیوی کا کہنا تھا کہ ’’ ہمیں اس گروپ میں شمولیت پر جس بات پر سب سے زیادہ افسوس ہوا تھا ،وہ یہ تھی کہ اس گروپ نے اسلام سے انحراف کیا تھا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں