خمینی اور حافظ الاسد تعلقات کی کہی ان کہی کہانی واقف حال کے قلم سے

سابق مصری سفیر کی نئی کتاب میں دونوں ملکوں کے تعلقات سے متعلق اہم انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران اور شام کی حکومتوں کے درمیان بہت سی قدریں مختلف ہونے کے باوجود دوںوں ملک برسوں سے باہمی شیر وشکر کیوں ہیں؟ اس حوالے سے حال ہی میں سامنے آنے والی ایک کتاب میں اس سوال کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے شام میں سابق سفیر ڈاکٹر مصطفیٰ عبدالعزیز مرسی کی تالیف ’حافظ الاسد حقیقت یا افسانہ‘ میں ایرانی رجیم اور شام کے درمیان باہمی تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

فاضل مصنف نے بتایا ہے کہ شام کے سابق صدر حافظ الاسد اپنی وفات 2000ء تک اور اس کے بعد ان کے صاحبزادے بشار الاسد اب تک ایران کی خمینی رجیم کے کاسہ لیس کیوں ہیں؟

ڈاکٹر مصطفیٰ مرسی لکھتے ہیں کہ ایران اور شام کے درمیان دو مشترکہ تاریخی پس منظر ہیں جنہوں نے اب تک ان ملکوں کو ایک دوسرے کا اتحادی بنائے رکھا ہے۔

مصر کے سابق سفیر ڈاکٹر مصطفیٰ مرسی لکھتے ہں کہ عرب دنیا میں اپنے اثر ونفوذ بڑھانے کے لیے تہران کو خطے میں کسی ایسی ہی وفادار طاقت کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے شام نے ایران کے لیے ٹریکٹر کا کام دیا اور تہران نے لبنانی حزب اللہ کے توسط سے عرب ملکوں میں اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی کی۔ خمینی حکومت کی طرف سے روز اول سے عرب ملکوں میں انتشار پھیلانے کے لیے اپنے پروردہ گروپوں کو اسلحہ اور رقوم مہیا کی جاتی رہیں۔ لبنانی حزب اللہ خمینی رجیم سے مستفید ہونے والا عرب دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ مرسی کا کہنا ہے کہ اتفاق سے ایران کو لبنانی حزب اللہ اور شام میں حافظ الاسد جیسے فکری اور مذہی ہم خیال مل گئے جنہوں نے عرب ملکوں میں ایران کے قدم جمانے میں تہران کی بھرپور مدد کی۔

کتاب میں لکھا ہے کہ ایران اور شام کے درمیان باہمی اتحاد کے اسباب میں ایک اہم سبب عراق کے صدر صدام حسین کو مل کر اقتدار سے ہٹانے کی اسکیم بھی شامل تھی۔

مصنف کے بقول بہت سے لوگ ایران اور شام کے درمیان گہرے مراسم کو اس کے مذہبی تعلق سے بھی جوڑتے ہیں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شام نے بھی وہی مذہبی لبادہ اوڑھا جس کا تماشا ایران میں آیت اللہ علی خمینی کے انقلاب کے بعد دیکھا گیا۔

ولایت فقیہ اور شامی رجیم میں مشابہت

مصری دانشور ڈاکٹر مصطفیٰ عبدالعزیز مرسی نے اپنے کتاب میں لکھا ہے کہ تہران اور دمشق کے درمیان طویل اتحاد اور شراکت کے دیگر محرکات میں ایک اہم محرک دونوں ملکوں کا برسر اقتدار نظام میں باہم مشابہ ہونا ہے۔ ایران میں خمینی کا قائم کردہ مذہبی آمرانہ نظام رائج ہے جب کہ شام میں بھی حافظ الاسد خاندان کا قائم کردہ نظام حکومت رائج ہے۔ دونوں اپنے اپنے تئیں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومتیں عوام کی نمائندہ اور من پسند ہیں۔ ایران میں ولایت فقیہ کے مذہبی سیاسی نظام کی باگ ڈور سپریم لیڈر کے ہاتھ میں جب شام میں صدر مملکت کے ہاتھ میں رہی ہے۔

فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ موجودہ شام حافظ الاسد کے شام سے کافی مختلف ہو چکا ہے۔ اس وقت شام، ایران نواز بشار الاسد اور اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کرنے والی ملیشیاؤں کے درمیان تقسیم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران نے عرب ملکوں میں اپنے سیاسی اثر ونفوذ کے لیے لبنان کے ذریعے پوشیدہ ’سیاسی تقیہ‘ کا نظریہ اختیار کیا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں ایرانی رجیم کی مداخلت کے واقعات بڑھتے گئے۔

حافظ الاسد اور ایرانی شاہ کی ناشکری

مصری مصنف اور سابق سفارت کار ڈاکٹر مرسی نے اپنی کتاب ’حافظ الاسد حقیقت یا افسانہ‘ میں مزید انکشاف کیا ہے کہ سابق شامی صدر حافظ الاسد ایران کے سابق بادشاہ کی بھی ناشکری کی۔ جنگ سنہ 1973ء کے بعد ایرانی بادشاہ نے حافظ الاسد کو 15 کروڑ ڈالر کا قرض مہیا کیا مگر اس کے باوجود حافظ الاسد کی ہمدردیاں خمینی کے ساتھ رہیں۔ جب خمینی کو عراق سے بے دخل کیا گیا تو حافظ نے انہیں شام میں پناہ دینے کی پیش کش کی۔

کتاب میں سابق شامی صدر کے سیاسی سفر، ان کی شخصیت، اقتدار پر قبضے اور حکومت کے لیے مختلف حربوں کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں