عراقی کردستان میں غیرت کے نام پر زندہ گاڑی گئی لڑکی کیسے بچ نکلی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یہ کوئی دو ڈھائی سال پہلے کا واقعہ ہے اور یہ جھاڑے کی ایک رات تھی۔عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان میں بھورے رنگ کے ایک پک اپ ٹرک میں پانچ افراد۔۔۔ ایک عورت اور چار مرد۔۔ سوار تھے اور وہ کسی انجانی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔

وہ سفر کرتے جب ایک چیک پوائنٹ پر پہنچے تو ان میں سے سب بوڑھے شخص نے عورت کی ران پر پستول تان لیا اور اس کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔کوئی ایک گھنٹے کے سفر کے بعد وہ پہاڑوں کے درمیان ایک ویران جگہ پر تھے۔وہاں انھوں نے اس عورت کو لاٹھیوں سے مارا پیٹا اور پھر کوئی ایک میل تک پیدل چلایا اور وہ اس کو ایک باغ میں لے گئے۔

اس دوران میں وہ عورت ان سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی تھی۔اس نے اپنے بھائی کو اللہ کے واسطے دیے اور اس سے کہا کہ وہ اس کو جان سے نہ مارے۔اس عورت نے صرف لاوا کے نام سے اپنی شناخت کرائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ اس رات اپنے بڑے بھائی سے اللہ کے نام پر معاف کرنے کا کہتی رہی تھی۔

لیکن اس کی تمام اپیلیں مسترد کردی گئیں۔اس کے دو بھائیوں نے ایک گڑھا کھودا اور اس کو وہاں زبردستی گرا دیا گیا۔اس کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ دیے گئے اور پھر اس کے چہرے تک مٹی ڈال دی گئی۔یوں اس رات اس کے بھائیوں نے اس کو زندہ درگور کردیا۔

لاوا نے کرد پریس کے ذریعے غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بہت سی عورتیں کی کہانیاں پڑھ اور سن رکھی تھیں۔ان عورتوں کو مبینہ ناجائز تعلقات کے الزام میں بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ان کے سرقلم کردیے گئے تھے یا پھر پھانسی دے دی گئی تھی اور اس کو خودکشی کا نام دے دیا گیا تھا۔

لاوا نے بھی اس کے بھائیوں کے بہ قول اپنے خاندان کی عزت کو داؤ پر لگایا تھا اور اس کا ’’جرم‘‘ صرف یہ تھا کہ کردستان کے دوسرے بڑے شہر دہوک میں ہوٹل میں وہ ملازمت سے چھٹی کے بعد ایک نوجوان مرد کے ساتھ دیکھی گئی تھی۔اسی جرم کی پاداش میں اس کے دو بھائیوں اور ایک کزن نے اس کو قبر میں زندہ اتار دیا تھا اور اس کا صرف سر باہر رہنے دیا تھا۔

اس کے بھائی نے رات کے اندھیرے میں وہاں سے چلتے ہوئے کہا تھا:’’ تم نے ہماری عزت کو داؤ پر لگایا۔یہ اس دنیا میں تمھاری سزا ہے اور دوسری دنیا میں تمھیں اس سے بھی بدترین سزا کی توقع کرنی چاہیے‘‘۔

لاوا نے اپنے سینے کے آگے سے مٹی ہٹانے کی کوشش کی تھی تاکہ اس کے پھیپھڑوں پر دباؤ کم ہو اور وہ سانس لے سکے۔اس کے بعد وہ کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہوگئی تھی لیکن وہ خوش قسمت ثابت ہوئی۔ورنہ ایسے بہت سے واقعات میں تو عورتیں جان کی بازی ہارجاتی ہیں۔

ہوا یہ کہ اس کے بہنوئی نے ،جوایک معزز وکیل ہیں،اس کے بھائیوں کو اس کے قتل کی سازش کی کھسر پھسر کرتے ہوئے سن لیا تھا۔وہ اس کے والد اور اپنے خسر کو لاوا کی قبر کی جگہ بتانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

لاوا نے تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن کو کردستان میں ایک نامعلوم مقام پرواقع کیفے میں بتایا کہ ’’ اس سے اگلے روز شام کو میں نے اپنی بڑی بہن کو اپنے خاوند اور تین بھائیوں کے ساتھ قبر کی جانب آتے ہوئے دیکھا۔پھر انھوں نے مجھے قبر سے نکال لیا۔میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ اس طرح میں زندہ بچ جاؤں گی‘‘۔

وہ اقدام قتل کے اس واقعے میں بچ جانے کے باوجود خود کو محفوظ نہیں سمجھتی ہے۔اس کو فروری 2015ء کی اس رات کے بعد اٹھارہ ماہ تک گھر سے باہر پاؤں رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پھر ستمبر 2016ء میں اس کو اس کے ایک بھائی نے ہوٹل میں کام کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

ابھی تک اس کا مستقبل غیر یقینی ہے لیکن اس کو یہ بھی اندیشہ لاحق ہے کہ اگر وہ کردستان سے بھاگ کر کہیں چلی نہ گئی تو اس کو ایک روز قتل کردیا جائے گا۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ ’’جب تک میں زندہ ہوں تو میں آزادی سے جینا اور سانس لینا چاہتا ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ عراق اوراس کے پڑوسی ملک اردن میں قانونی اسقام کی وجہ سے عورتوں کے خلاف اس طرح کے تشدد کے واقعات عام ہیں اور غیرت کے نام پر اپنی رشتے دار عورتوں کو موت کی نیند سلانے والے ملزم کڑی سزاؤں سے صاف بچ نکلتے ہیں۔

عراقی حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس سال مئی تک تیس عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاچکا تھا۔کردستان کی علاقائی حکومت نے 2012ء میں عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کیا تھا۔تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراق نے ضابط فوجداری میں موجود قانونی سقم دور کرنے اور غیرت کے نام پر قتل ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں