کیا فیس بُک کے ڈرون سے پوری دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی ہوجائے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فیس بُک نے شمسی توانائی سے اڑنے والا ایک بغیر پائیلٹ طیارہ تیار کر لیا ہے جس سے پوری دنیا میں انٹر نیٹ تک رسائی ہوسکے گی۔

فیس بُک نے حال ہی میں امریکی ریاست ایریزونا میں خاموشی سے اس ڈرون کی کامیابی سے آزمائشی پرواز کی ہے۔اس سے پہلے یہ ڈرون آزمائشی پرواز کے دوران میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ عقیلہ نامی اس ڈرون کے بارے میں ایک طویل المیعاد منصوبہ رکھتے ہیں۔عقیلہ اور دوسرے ڈرونز کے ذریعے دنیا بھر کے چار ارب نفوس کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔اس وقت یہ آبادی انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔

انھوں نے فیس بُک پر لکھا ہے:’’ جب عقیلہ تیار ہوگا تو یہ شمسی توانائی کے ذریعے اڑنے والے طیاروں کا ایک فلیٹ ہوگا۔اس سے دنیا بھر میں انٹر نیٹ سے روابط جوڑے جا سکیں گے‘‘۔

’’دا یوم سن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اس ڈرون نے مئی میں یوما پروونگ گراؤنڈ پردوسری پرواز مکمل کی تھی۔دسمبر میں پہلی پرواز کے دوران ڈرون کے گر کر تباہ ہونے کے بعد نئے آلات اور سنسر وغیرہ لگائے گئے تھے۔ اس ڈرون کی پرواز کا دورانیہ ایک گھنٹے اور 46 منٹ تک رہا تھا اور اس نے تین ہزار فٹ کی بلندی پر کی تھی۔ اس ڈرون کا وزن ایک ہزار پاؤنڈ ہے اور اس کے پر بوئنگ 747 سے بڑے پر ہیں۔

فیس بُک کے ایرو ناٹیکل پلیٹ فارمز کے ڈائریکٹر مارٹن لوئی گومز کا کہنا ہے کہ ’’ڈرون کے ساتھ ایک ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے والی انجینئرنگ ٹیم نے انٹرنیٹ چلایا تھا اور وہ اس کے نتیجے سے بہت مطمئن تھی‘‘۔ان کے بہ قول عقیلہ ڈرون کی کارکردگی میں پہلی پرواز کے بعد دوسری پرواز میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

زکربرگ نے لکھا ہے کہ ’’ ہم نے کامیابی سے بہت سا ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے ،اس سے ہمیں عقیلہ کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اب تک کسی نے ایک وقت میں کئی ماہ تک اڑنے والا بغیر پائیلٹ طیارہ نہیں بنایا ہے۔اس لیے ہمیں اس حق کو حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی تفصیل کی ضرورت ہے’’۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں