پاسداران نہ ہوتے تو ایران بھی نہ رہتا: سلیمانی کا روحانی کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کی قُدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا کہنا ہے کہ "کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاسداران انقلاب کو کمزور کرے یا پھر اسے تنقید کا نشانہ بنائے"۔

ایرانی نیوز ایجنسی "میزان" کے مطابق سلیمانی کا یہ اعلان ایرانی صدر حسن روحانی کے حالیہ بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں روحانی نے پاسداران پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نیم فوجی تنظیم نے ملک کی معیشت پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سلیمانی نے مزید کہا کہ "اگر پاسداران انقلاب تنظیم نہ ہوتی تو ملک برباد ہو جاتا"۔ سلیمانی نے یہ بات منگل کے روز 80ء کی دہائی میں عراق ایران جنگ میں شریک جنگجوؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران کی معیشت میں پاسدارانِ انقلاب کی مداخلت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ "معیشت تو عسکری ریاست کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے"۔ جمعرات کے روز ماہرینِ اقتصادیات کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے روحانی نے عسکری اداروں کی وسیع مداخلت اور معیشت کی نجکاری کے منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "اب معیشت، اسلحہ اور میڈیا عسکری طاقتوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے اور کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا"۔ روحانی نے گزشتہ ماہ اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران پاسداران انقلاب پر تنقید کرتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سرحد پر عسکری اور سکیورٹی امور پر توجہ دے۔ روحانی نے پاسداران پر سرمایہ کاری میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام عائد کیا اور اس کے سکیورٹی برتاؤ کو ایران میں معیشت کے بگاڑ کا ذمے دار ٹھہرایا۔

روحانی کی اس تنقید کو ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ کمانڈر جنرل محمد علی جعفری نے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "معیشت میں پاسداران انقلاب کی مدخلت کا مقصد انقلاب کا تحفظ ہے"۔ جعفری کے مطابق پاسداران کی اقتصادی سرگرمیاں تعمیرات سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد ایران کی معیشت کا دیگر عوامل پر انحصار ختم کرنا اور عسکری طاقت کو مضبوط بنانا ہے تا کہ بدمعاش طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکے"۔ پاسداران کے سربراہ نے باور کرایا کہ جس ریاست کے پاس بھی ہتھیار نہیں ہوں گے اس کو دشمن کی طرف سے ذلیل اور بے وقعت بنایا جائے گا جس کے بعد وہ خود سے ہتھیار ڈال دے گی"۔

ملک کی ترقی اور اقتصادی بحرانات سے نجات کے لیے روحانی کے منصوبے جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا دروازہ کھولنے اور سیکٹروں کے کچھ حصے کی نجکاری کی پالیسی بنیادی حیثیت رکھتی ہے.. یہ پاسداران انقلاب کے منصوبوں سے متصادم ہیں جو مرشد اعلی علی خامنہ ای کی خواہش کے مطابق غیر ممالک کی معاونت کے بغیر مقامی وسائل کا سہارا لے کر خود کفالت اور معیشت کی ترقی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں