.

" بناؤ سنگھار کے بغیر فربہ عورت" کس کی نظر میں خوب صورت ترین ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ ادب کے ناقدین معروف عرب شاعر المتنبّی کے غزلیہ قصیدوں کے وجود یا عورت کے حوالے سے المتنبّی کے موقف کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ تاہم المتنبی کے ایک مشہور قصیدے میں اُن خد و خال کا نقشہ کھینچا گیا ہے جن کو وہ اپنی نظر میں خوب صورت عورت کے لیے ضروری جانتا تھا۔

سن 346 ہجری میں اپنے اس قصیدے میں المتنبی عورت کی بھنوؤں اور چہرے سے ہو کر کمر تک پہنچا اور پھر وہاں سے پنڈلی کے نیچے ایڑی کے اوپر کے حصے تک آیا۔ قصیدے میں اُس نے خوب صورت ترین عورت کی خصوصیات کا تعین کیا اور ساتھ ہی اپنے دور کی اُن خواتین کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جو قدرتی محاسن کے بجائے مصنوعی انداز سے چمک دمک کے ذریعے خود کو صاحب جمال بنانے کی کوشش کرتی تھیں۔

بنیادی طور پر کافور کی مدح میں کہے جانے والے اس قصیدے میں المتنبی نے خوب صورت عورت کی صفات پر روشنی ڈالی ہے۔ المتنبی کے اشعار کے بڑے شارحین کے مطابق اُس کی نظر میں خوب صورت عورت "بھرے جسم کے ساتھ گوری نگت والی" ہوتی ہے۔ ایک شارح کے مطابق شعر میں استعمال کیے جانے والے متعلقہ لفظ کا معنی "موٹی عورت" ہے۔

اگلے اشعار میں المتنبی نے اپنے زمانے کی خواتین کی جانب سے جلد کی رنگت بدلنے کے لیے استعمال کیے جانے والے مواد (میک اَپ) پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ خانہ بدوش عورت کا حُسن کسی بھی سہارے سے بے نیاز ہوتا ہے۔ اُس کے نزدیک خوب صورت عورت وہ ہے جس کو اپنی جلد کے لیے کسی مصنوعی مواد کا استعمال نہ کرنا پڑے۔

المتنبی نے عورت کے جمال میں اُس کے بات چیت کے انداز کو بھی شامل کیا ہے۔ اُس نے عرب خواتین کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ الفاظ چبائے بغیر "فصیح" گفتگو کرتی ہیں۔

المتنبی نے خوب صورت ترین عورت کی جسمانی خصوصیات کا تعین کرتے ہوئے پاؤں سے لے کر کمر تک انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا۔

المتنبی کے مطابق خوب صورت عورت کا جسم اپنی کمر کو نمایاں کرنے یا اپنی چال ڈھال کے ذریعے دانستہ طور پر میلان کی کشش پیدا کرنے سے بے نیاز ہوتا ہے۔

المتنبی نے اپنی سوچ کے مطابق خوب صورت عورت کے چہرے ، بھنوؤں ، بھرے ہوئے یا فربہ جسم پر نظر ڈالتے ہوئے کمر اور ایڑی پر اختتام کیا۔ اس کے بعد وہ عورت کی سادگی کا ذکر کرتا ہے۔ المتنبی کے اشعار کے ایک شارح العکبری کے مطابق شاعر نے کہا کہ "وہ بالوں کو خضاب کے مصنوعی رنگ سے آلودہ نہ کرنے والی خواتین کی چاہت میں اپنے بالوں میں بھی خضاب کا استعمال نہیں کرتا"۔ یعنی کہ المتنبی نے اپنے سر کے سفید بالوں کو سیاہ نہیں کیا۔

خلاصہ یہ ہوا کہ المتنبی کی نظر میں وہ عورت خوب صورت ہو گی جو بھرے ہوئے جسم یا فربہ جسم کی مالک ہو۔ اُس کا حُسن قدرتی ہو اور وہ بناؤ سنگھار سے بے نیاز ہو۔ وہ فصاحت کے ساتھ گفتگو کرتی ہو اور الفاظ کو پورے مخارج کے ساتھ ادا کرتی ہو۔ اُس کو چہرے کا جمال نمایاں کرنے کے واسطے کسی بھی مواد کی ضرورت نہ ہو۔ وہ اپنے کمر کے نیچے کے حصے کو نمایاں کرنے کے لیے مصنوعی چال نہ اختیار کرتی ہو.. اور طبیعت میں سادہ ہو یعنی بالوں کو خضاب وغیرہ لگا کر جمال حاصل کرنے کی کوشش نہ کرتی ہو۔

بعض کے نزدیک المتنبی نے عورت کے جسم اور جمال کے حوالے سے جن خصوصیات کا ذکر کیا ہے وہ قریبا ناممکن یا حیران کن ہیں۔ بالخصوص جب کہ اُس نے "فربہ یا بھرے جسم والی عورت" کو خوب صورت ترین جسم کے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ البتہ اتنے طویل عرصے تک نظر انداز ہونے کے بعد یقینا یہ بہت سی خواتین کے لیے اچھی بات ہو سکتی ہے !