.

آئیے، ’نجد کے پیرس‘ کی سیر کو چلتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی علاقے نجد کے ایک چھوٹے سے شہر ’عنیزہ‘ کی شہرت چار دانگ عالم میں مشہور ہے۔ اس کی وجہ شہرت کی کئی وجوہات ہیں۔ یہاں کے باشندوں کی باہمی اخوت وبھائی چارہ، امیر وغریب میں مساوات، گورنر اور عام شہری میں برابری، سخاوت، مہمان نوازی اور شہر کی قدرتی خوبصورتی عنیزہ کو سعودی عرب کے دوسرے علاقوں سے ممتاز کرتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’عنیزہ‘ کو نجد کا پیرس کہا گیا مگر پہلے آج سے 139 سال پیشتر 1878ء میں داوتی نامی مصنف کی کتاب سے عنیزہ کا حوالہ پیش کرنا مناسب رہے گا۔ داوتی شمالی نجد کے سماج کے بارے میں تصنیف میں لکھتا ہے کہ ’یہاں کے لوگ آزاد منش ہیں۔ ایک عام انسان اور گورنر کے درمیان کوئی نمایاں فرق نہیں۔ اہالیان عنیزہ کی آزادی قابل رشک اور باعث حیرت ہے۔ ان کے امراء تکبر نہیں کرتے۔ ایک عام شہر امیر شہر سے بآسانی ملاقات کرسکتا اور اس کے فیصلوں پر اسے ٹوک سکتا ہے‘۔

داوتی نے عنیزہ اور اس کے باشندوں کے بارے میں جو تبصرہ کیا ہے وہ مبنی برحقیقت ہے اور یہاں کے باشندے آج بھی انہی صفات سے متصف ہیں۔ داوتی مزید لکھتا ہے کہ ’یہاں کے باسی مہذب، خوش لباس، خوش خوراک، ملنسار، چلتے پھرتے تعاون کرنے والے، ایک دوسرے سے خندہ پیشانی، خوشی اور نرمی سے ملتے ہیں‘۔داوتی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلبی بھی 23 اگست 1918ء کو شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ہمراہ عنیزہ کے دورے پر آئے۔

فلبی نے لکھا کہ ’میں نے عنیزہ اور اس کے باشندوں کی انفرادیت سے متعلق بہت کچھ سن رکھا تھا۔ اس شہر کے باشندے مذہب تعصب کی گھٹن فضا سے محفوظ، ایثار اور سخاوت کے پیکر ہیں۔ عنیزہ کا دورہ کرکے میں واقعے مبہوت اور حیران رہ گیا۔ ایسا لگا کہ میں کسی دوسری دنیا میں داخل ہوگیا ہوں۔ ایک اجنبی ہونے کےباوجود لوگ کس قدر مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا‘۔

نجد کا پیرس

’عنیزہ‘ کو نجد کا پیرس کا لقب لبنانی سیاح امین الریحانی نے 97 برس قبل شہر کے دورے کے بعد دیا۔ اس نے اپنی کتاب میں بار بار عنیزہ کا تذکرہ کیا اور لکھا ہے کہ مجھے ’تشریف لایے ہم آپ کو یہاں آنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں‘ کے الفاظ نے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔

الریحانی نے عنیزہ کو نہ صرف نجد کا پیرس لکھا بلکہ اسے کئی دوسرے القابات اور نام دیے ہیں جن میں عنیزہ قطب الذوق، ملکیہ القصیم، حصن الحریہ، محط رحال انباء الامصار‘ زیادہ مشہور ہیں۔ مذکورہ تمام نام عنیزہ کے باشندوں کی خوبیوں اور ان کے کمالات کے آئینہ دار ہیں۔

ریحانی لکھتے ہیں کہ عنیزہ کے باشندے بے پناہ ادبی ذوق کے حامل ہیں۔ یہ شہر پیرس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے کیونکہ پیرس میں کھجور کے درخت نہیں اور نہ ہی وہاں پر سنہری سکوں والا کوئی مقام ہے۔ عنیزہ پیرس سے اس لیے بھی خوبصورت ہے کیونکہ یہ اپنی ہمہ پہلو خوبیوں کے ساتھ ساتھ لاجوردی سنہری طوق پہنے صحرا میں ایک نگینے کی طرح ہے۔ الریحانی کہتے ہیں کہ ادیبوں نے عنیزہ کی طلسمانی خوبصورتی اور وہاں کے باشندوں کے حسن سلوک پر جا بجا اس کی تعریف کی ہے۔

عنیزہ کی دیگر امتیازی خصوصیات

عنیزہ شہر کی سیاحتی کمیٹی کے سیکرٹریی یوسف الوھیب نے عنیزہ کی دوسرے سعودی شہروں کی نسبت امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ نجد کی سماجی روایات کے بارے میں اگرچہ بعض مستشرقین نے بدگمانی پھیلانے کی کوشش کی مگر یہاں آنے والے سیاحوں نے غیر جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عنیزہ کے حقیقی قدرتی حسن کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔

الوھیب کا کہنا ہے کہ عنیزہ اپنے کاروباری حضرات، ادیبوں، دانشوروں اور زندگی کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

شہر کے چار داخلی دروازے، کھجوروں کے کھیت، تاریخی بازار المسکوف[جو الزامل خاندان کی مساعی سے آج بھی قائم ہے]، جفالی خاندان کی انسانی بہبود کی مساعی بالخصوص علاج کے لیے اسپتالوں کا قیام عنیزہ کی موجودہ پہچان ہیں۔ یہاں پر ہونے والی ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی دوسرے شہروں کی نسبت نمایاں ہیں۔ ابن صالح کلچرل سینٹر میں ہرسال عنیزہ ثقافتی میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔

عنیزہ سعودی عرب کی واحد گورنری ہے جو پچھلے پندرہ سال سے ماحولیاتی تحفظ کی خاطر ایک صحرائی درخت الغصا کی حفاظت کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔