بائیکاٹ سے قطر میں عالمی کپ کے 96 ارب ڈالر کے منصوبے خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسا نظر آتا ہے کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا اثر لا محالہ طور پر دوحہ کی 2022 کے عالمی کپ فٹبال کی میزبانی سے متعلق منصوبوں پر پڑے گا۔

قطر کے وزیر مالیات علی العمادی کا کہنا ہے کہ دوحہ کی جانب سے 2022 کے عالمی کپ کے منصوبوں پر ہفتہ وار خرچ ہونے والی رقم تقریبا 50 کروڑ ڈالر ہے۔ قطری وزیر کی توقعات کے مطابق یہ اخراجات آئندہ تین سے چار برس تک اسی سطح پر جاری رہیں گے۔ اس دوران اسٹیڈیم ، ہائی ویز ، ریل کی پٹریاں اور نئے ہسپتال بنائے جائیں گے۔

اس کا مطلب ہوا کہ دوحہ کو رواں برس اور آئندہ سالوں کے دوران تقریبا 96 ارب ڈالر درکار ہوں گے جو دوحہ کے خلاف چار ملکی بائیکاٹ اور اقتصادی پابندیوں کے بعد ایک دشوار امر ہو گا۔

کریڈٹ ریٹنگ کی معروف ایجنسی Standard & Poor's کی جانب سے 8 جون کو جاری ریٹنگ میں قطر کے ریال کی قیمت میں کمی کے ساتھ اس کی کریڈٹ ریٹنگ گزشتہ 11 برسوں میں نچلی ترین سطح پر آ گئی۔

ایجنسی نے طویل مدت کے قرضوں کے لیے قطر کی کریڈٹ ریٹنگ کو AA سے کم کر کے AA- کر دی اور اس کو منفی اثر کی حامل کریڈٹ مانیٹرنگ کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریٹنگ میں ایک بار پھر کمی کا قوی امکان ہے۔

کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی جریدےMEED کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کے جاری رہنے کے ساتھ قطر میں تعمیراتی سیکٹر کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطر میں کام کرنے والی عالمی تعمیراتی کمپنیاں اس وقت اپنے معاہدوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں تا کہ بائیکاٹ کے نتیجے میں اضافی لاگت اور اخراجات سے گریز کیا جا سکے۔

قطر کا ہدف ہے کہ 2022 کے عالمی کپ سے متعلق تعمیرات اور تنصیبات کا دو تہائی حصہ 2018 کی پہلی سہ ماہی تک مکمل طور پر تیار ہو۔ اس ہدف کو بھی قطر اور تعمیراتی کمپنیوں کے درمیان دستخط معاہدوں کی نوعیت کی وجہ سے حقیقی خطرات کا سامنا ہے۔

عام طور پرFIDIC کے نام سے معروف تعمیرات کے روایتی معاہدے عمل درامد کے وقت میں مسائل کی صورت میں ٹھیکے دار کو منصوبے کی تکمیل کے واسطے اضافی وقت کے حصول کا حق دیتے ہیں.. مگر ان معاہدوں میں لاگت میں اضافے کے مقابل ٹھیکے دار کو مزید مالی رقوم حاصل کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاگت میں اضافے کی وجہ سے ان منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنا انتہائی دشوار امر ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں