یمنی وزیر محاصرہ زدہ ماں سے مل کر بلک بلک کر روتے رہے

عبدالرقیب فتح کی اپنی والدہ سے جبری جدائی کے ڈھائی برس بعد تعز میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمنی رضاکاروں نے سوشل میڈیا پر وزیر مقامی انتظامیہ عبدالرقیب فتح کی ایک دل کو چھو لینے والی تصویرجاری کی ہے جس میں وہ تعز کے مضافات میں واقع ایک گاوں میں اپنی والدہ سے ڈھائی برس کی جبری جدائی کے بعد گلے ملتے دیکھتے جا رہے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق وزیر مقامی انتظامیہ کی والدہ یمنی خانہ جنگی اور بالخصوص حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے جنگجووں کی طرف سے تعز کے محاصرے کی وجہ سے اپنے بیٹے سمیت دیگر رشتہ داروں طویل مدت تک نہ مل سکیں۔ حال ہی میں ڈھائی برس کی جدائی کے بعد ماں بیٹا جب گلے ملے تو انتہائی جذباتی مناظر دیکھے گئے جس میں عبدالرقیب فتح بلک بلک کر روتے دیکھے گئے۔

سوشل نیٹ ورکنگ کارکنوں کے مطابق یمنی وزیر کی اپنی والدہ سے ملاقات کے موقع پر وائرل ہونے والی تصویر تقریبا ان تمام یمنیوں کی داستان کو بیان کرتی ہے جنہیں تنازع کا ایندھن بننے والے اپنے علاقوں میں واپسی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

یمن کی آئینی حکومت میں شامل وزراء کے ایک گروپ نے لڑائی کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ گزشتہ روز تعز صوبے کا دورہ کیا تاکہ وہ حوثیوں اور سرکاری فوج کی لڑائی میں میداان جنگ بنے اس علاقے کی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ اس حکومتی وفد میں وزیر عبدالرقیب فتح، ہائر ایجوکیشن وزیر ڈاکٹر حسین بسلامہ اور وزیر تعلیم ڈاکٹر عبداللہ لملاس شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں