.

قارون کے متعلق وہ معلومات جو آپ نہیں جانتے ہوں گے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنی اسرائیل کے زمانے کے معروف بادشاہ قارون کا محل مصر کے جنوب مغربی صوبے الفیوم میں نہرِ قارون کے جنوب مغربی جانب واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قارون کا خاص محل ہے جس کے نام کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا اور اللہ عز و جل نے اس کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔

مذکورہ محل میں 3000 کمرے ہیں۔ اس میں داخل ہونے والا راستہ بھٹک جاتا ہے اور باہر آنے تک دماغی توازن کھو چکا ہوتا ہے۔ تاہم آثار قدیمہ اور تاریخ کے مصری ماہرین باور کراتے ہیں کہ یہ تمام معلومات بے بنیاد ہیں اور قارون کا حقیقی محل عراق کے علاقے نینوی میں واقع تھا۔

قدیم زمانے کے مصریوں نے اس محل کو قصرِ قارون کا نام اس واسطے دے دیا کہ اس کے پڑوس میں نہرِ قارون واقع ہے۔ اس نہر کو یہ نام اس کی کثرت تلاطم کی وجہ سے دیا گیا۔ ابتدا میں اس کو نہرِ قرون کا نام دیا گیا جو بعد میں بگڑ کر نہرِ قارون ہو گیا۔

ماہر آثاریات ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں الفیوم میں واقع قصرِ قارون اور 3000 کمروں کی حقیقت کا انکشاف کیا۔ ان کے مطابق یونانی مؤرخ ہيرودوت نے پانچویں صدی قبل مسیح میں الفیوم میں نہر قارون کا دورہ کیا تھا۔ اس نے یہ دعوے سن رکھے تھے کہ قارون ہی قبل مسیح میں مصر کا بادشاہ Amenemhat III ہے جب کہ ہیرودوت کی سابقہ معلومات کے مطابق قارون کا محل اور اس کا واقعہ آشوری شہر نینوی میں پیش آیا۔ ہیرودوت کی تاریخی معلومات اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ نینوی کا بادشاہ جس کو "اَبولو" کے نام سے پکارا جاتا تھا بہت زیادہ مال و دولت کا مالک تھا جو زیر زمین خزانوں کی شکل میں محفوظ تھے۔

ڈاکٹر ریحان کے مطابق ہیرودوت نے نینوی اور الفیوم کے دونوں قصوں کو مربوط کر دیا۔ بعد ازاں یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہودیوں نے مصر میں موجودگی کے دوران غلط معلومات کو پھیلایا اور الفیوم میں نہر کی کھدائی کے قصّے کو قرآن کریم میں مذکور قارون کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہودیوں نے افواہ پھیلائی کہ الفیوم کا یہ محل اسی قارون کا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور یہ ہی شخص تورات میں قورح کے نام سے مذکور ہے۔

ڈاکٹر ریحان نے واضح کیا کہ ہیرودوت کے مطابق الفیوم میں واقع محل 1500 کمروں پر مشتمل ہے جب کہ اتنی ہی تعداد میں کمرے زیر زمین بھی ہیں۔ اس بھول بھلیاں میں داخل ہونے کے واسطے ایک رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

مصر کے صوبے الفیوم کا نام قِبطی زبان کے نام "بيوم" (نہر کا اڈہ) سے نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ فیوم ہو گیا اور پھر مسلمانوں نے اس میں اَل کا اضافہ کر دیا جس کے بعد یہ الفیوم ہو گیا۔ جہاں تک نہرِ قارون کے نام کا تعلق ہے تو اس میں اُسی "قارون" کی جانب اشارہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے مگر یہ مقام جغرافیائی طور سے قارون کے قصے کا محل وقوع نہیں ہے۔