.

بھارت : پانچ کروڑ لِٹر خام تیل چرانے والا گینگ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں پولیس نے پانچ کروڑ لِٹرز سے زیادہ خام تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم گروہ کو پکڑ لیا ہے۔اس گروپ کے مشتبہ ارکان بھارت کے تیل کے سب سے بڑے کنویں سے پانی کے ٹینکروں میں تیل چرا کر بیچ رہے تھے۔

بھارتی حکام کے مطابق کیرن انڈیا آئیل فیلڈ سے گذشتہ چھے سال سے بڑے خفیہ طریقے سے خام تیل چوری کیا جارہا تھا۔پولیس نے اسی ہفتے اس اسمگلنگ نیٹ ورک کو چلانے والے پچیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق اس آئیل فیلڈ سے ساڑھے ستتر لاکھ ڈالرز مالیت کا تیل چرایا جا چکا ہے۔اس آئیل فیلڈ کا انتظام برطانیہ کی کان کنی کی بڑی کمپنی ویڈانٹا ریسورسز کی ایک ذیلی کمپنی کے پاس ہے۔

راجستھان کے ایک پولیس افسر گنگن دیپ سنگلہ نے بتایا ہے کہ تیل کی چوری کے اس اسکینڈل میں ملوث مزید پچھتر افراد ابھی تک مطلوب ہیں۔ان میں اس آئیل فیلڈ پر کام کرنے والے بہت سے ڈرائیور اور ٹھیکے دار بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کمپنی کو تیل کی کسی مشتبہ سرگرمی کا شک ہوا تھا اور اس نے پولیس کو شکایت کی تھی۔ اب تحقیقات کے بعد ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ یہ ایک منظم گروہ ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ ڈرائیوروں کو تیل کے ساتھ نکلنے والے پانی کو لے جانے کی اجازت تھی تاکہ اس کو کسی اور جگہ جا کر پھینکا جاسکے لیکن بعض ڈرائیور اپنے ٹینکروں میں وہاں سے پانی کے بجائے خام تیل لے جا رہے تھے۔

یہ ڈرائیور پکڑے جانے اور اپنے سراغ کا پتا چلنے سے بچنے کے لیے جی پی ایس ڈیوائسز کو ناکارہ بنا دیتے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خام تیل چرانے کے دھندے میں استعمال ہونے والے تیس ٹرکوں کو پکڑ لیا گیا ہے اور ان کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

یہ ٹرک ڈرائیور اور ٹھیکے دار کیرن آئیل فیلڈ سے چرائے گئے تیل کو نزدیک واقع دو چھوٹی فیکٹریوں کے مالکان کو فروخت کردیا کرتے تھے۔وہ تیل کو زیر زمین ٹینکوں میں ذخیرہ کر لیتے تھے اور پھر بھارت بھر میں اپنے صارفین کو فروخت کردیا کرتے تھے۔ یہ چوری شدہ تیل شاہراہوں کی تعمیر اور ڈیزل بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔

فروری میں شمالی ریاست اترپردیش میں تیل صاف کرنے کے ایک سرکاری کارخانے کی پائپ لائن سے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز مالیت کا تیل چوری کرنے کے الزام میں دس بارہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گینگ نے ریفائنری سے ملحقہ اراضی خرید رکھی تھی۔وہاں سے انھوں نے پائپ لائن تک ایک زیر زمین سرنگ کھود لی تھی اور پھر اس سے وہ تیل چراتے رہے تھے۔

واضح رہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قریباً بیاسی فی صد خام تیل درآمد کرتا ہے۔