.

جدہ میں حجاج کی دیرینہ قیام گاہ کی کہانی!

’البنط‘ بلڈنگ ماضی اور حال کے آئینے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حج اور عمرہ کے مناسک کی ادائی کے لیے آنے والے مسلمان صدیوں تک جدہ کی ایک تاریخی عمارت کو ابتدائی قیام گاہ کے طور پراستعمال کرتے رہے۔ ’البنط‘ بلڈنگ بحر احمر سے آنےو الے حجاج ومعتمرین اور زائرین کی جدہ میں پہلی قیام گاہ اور ان کا استقبالیہ مرکز رہی۔ بحر احمر کی طرف سے آنے والے تمام قافلے اسی عمارت کے قریب اترتے اور اپنے سامان کے ہراہ اس عمارت میں داخل ہوتے۔ یوں اس عمارت کو جدہ کا دھڑکتا ہوا دل قرار دیا جاتا۔ یہ عمارت اپنے آپ میں خطہ حجاز کی اقتصادی شہ رگ بھی تھی۔

لفظ ’البنط‘ لاطینی زبان ’بونٹ‘ سے ماخوذ ہے۔ یہ لفظ جنوبی امریکا کے باشندے استعمال کرتے تھے جس کا مطلب ’ساحلی تفریح گا‘ لیا جاتا ہے۔ جدہ میں البنط بلڈنگ عثمانی گورنر عثمان نوری پاشاد کے دور میں 1867ء میں تعمیر کی گئی۔ عمارت کی تعمیر میں منقش پتھر استعمال کیے گئے۔ اس کی دیواروں پر قرآنی آیات منقش کی گئیں جب کہ اندورنی حصوں، گیلریوں، ستونوں اور راہ داریوں کو بھی خوبصورت نقش ونگار سے مزین کیا گیا۔

جدہ کے مورخ یاسر العامر کا کہنا ہے کہ البنط بلڈنگ کے تین اہم حصے تھے۔ جنہیں ’الاسکلہ‘، الکرنتینہ‘ اور ’جمرک الحجاج‘ کہا جاتا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’الاسکلہ‘ وہ پلیٹ فارم تھا جس پر حجاج اور معتمرین کے قافلے اترا کرتے۔ تاہم یہاں پر بحری جہاز لنگرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اس کے قریب بڑی مقدار میں آبی حیات کے ڈیرے تھے۔ حجاج کے قافلے پہلے الاسکلہ میں آتے جہاں سے وہ البنط کی طرف روانہ ہوجاتے۔

دوسرا مقام جسے ’الکرنتینہ‘ کہا جاتا یہ حجاج ومعتمرین کا طبی معائنہ مرکز تھا جہاں وقت کے طبی ماہرین اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ یہاں پرآنے والے عازمین حج وعمرہ کو کسی قسم کا مرض لاحق نہیں۔

البنط بلڈنگ سے ملحقہ تیسری جگہ ’جمرک الحجاج‘ کے نام سے مشہور تھی اور یہ حجاج ومعتمرین کے سامان رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہاں پرآنے والے تمام حجاج ومعتمرین اپنا سامان جمرک الحجاج میں جمع کراتے اور مکہ روانگی سے قبل اپنا سامان یہاں سے وصول کرلیتے تھے۔

یاسر العامر کا کہنا ہے کہ البنط بلڈنگ کو شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب جنوری 1946ء کو موجودہ سعودی مملکت کے بانی شاہ سعود الفیصل مصر کی شاہی کشتی ’المحروسہ‘ پر یہاں سے سوار ہو کر مصر کے سفر پر روانہ ہوئے۔ شاہ عبدالعزیز اپنے بیٹوں اور دیگر اہم شخصیات کے ہمراہ الاسکلہ پہنچے جہاں سے انہیں مصر کی شاہی کشتی المحروسہ پر سوار کرکے نہر سویز کی طرف روانہ کیا گیا۔ شاہ عبدالعزیز کو مصر کے سفر پر الوداع کرنے اور پھر اسی جگہ واپسی پر ان کا استقبال کرنے کے لیے سعودی عوام کا جمع غفیر جمع تھا۔

اگرچہ سنہ 1950ء کے عشرے میں البنط بلڈنگ کی جگہ عازمین حج وعمرہ کے تمام انتظامات جدہ کی اسلامی بندرگاہ کو منتقل ہوگئے مگر یہ دو منزلہ عمارت آج بھی اپنی جگہ بدستور موجود ہے جو پرانے دور کے فن تعمیر کا ایک شاہ کار ہے۔ جدہ گورنر سیکرٹیریٹ نے اس عمارت کو ایک میوزم میں تبدیل کردیا ہے۔