.

کہانی مصری خاتون کی جسے غربت نے مرد بنا دیا!

بہیہ بکر کے نام سے مصر میں آٹو رکشہ چلاتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتےہیں کہ غربت انسان کو ہر راہ دکھاتی ہے۔ یہ کہاوت مصر کی ایک 32 سالہ خاتون پر صادق آتی ہے جس نے سچ مچ میں غربت کے باعث اپنا نسوانی حلیہ تبدیل کرکے خود کو مرد بنا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس عجیب کہانی کا تفصیلی احوال بیان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع بنی سویف گورنری کی 32 سالہ بہیہ کو مقامی سطح پر لوگ’ بکر‘ نامی ایک نوجوان کے نام سےجانتے ہیں جو ایک موٹرسائیکل رکشہ چلاتا ہے۔ مگر وہ حقیقت میں مرد نہیں بلکہ خاتون ہیں اور غربت نے انہیں اپنا حلیہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بہیہ [مردانہ نام بکر] نے بتایا کہ اس کی شادی 15 سال قبل اپنے سے 16 سال بڑے اور دو بچوں کے باپ علی سلیمان نامی ایک شخص کے ساتھ ہوئی۔ اب اس کے علی سلیمان سے چار بچے ہیں۔

بہیہ کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر رکشہ چلاتا اور دوسرے کام کرتا تھا جس سے ان کے گھر کا گذر اوقات صحیح چلتا تھا مگر ایک حادثے کے نتیجے میں شوہر قوت گویائی سے بھی محروم ہوگیا اور وہ اب صاحب فراش ہے۔ گھر میں کمانے والا اور کوئی فرد نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے آخر کا یہ فیصلہ کیا کہ وہ مردانہ روپ میں کام شروع کرے گی۔ اب وہ دن کے وقت تعمیراتی کاموں میں مزدوری کرتی ہے اور شام کے وقت موٹرسائیکل رکشہ چلا کر اپنے بچوں اور بیمار شوہر کے لیے روزی کماتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بہیہ نے بتایا کہ مصری معاشرے میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بھی بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اس نے اپنی نسوانیت چھپاتے ہوئے مردانہ رنگ روپ اپنا لیا۔

اس نے حجام سے اپنے بالوں کی مردانہ کٹنگ کرائی، مردانہ لباس زیب تن کیا اور وہ ان علاقوں میں کام کاج کرتے ہے جہاں لوگ اس کی اصلیت سے واقف نہیں۔ وہ گذشتہ پانچ سال سے یہ روپ اپنائے ہوئے ہے۔