.

سعودی عرب کی پہلی ٹی وی میزبان سے ملیے!

نوال بخش نے 55 سال پہلے ٹیلی ویژن میں خدمات انجام دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے 55 برس پیشتر سعودی عرب کے عوام نوال بخش نامی پہلی سعودی ٹیلی ویژن نیوز کاسٹر کی آواز سے مانوس ہوئے۔ یہ سنہ 1970 اور 1980ء کے دور کا واقعہ ہے جب سعودی عرب میں ٹی وی چینل کو غیرمعمولی فروغ ملا۔ اسی عرصے کے دوران نوال بخش کی آواز تمام سعودی شہریوں کے گھروں میں سنی گئی۔

نوال بحش اب ریٹائر ہوچکی ہیں، مگر اسے اپنی ریٹائرمنٹ کا بہت دکھ ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس نے اپنے ماضی کے حالات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی چینل میں ملازمت پربھی بات کی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور لہجے میں ارتعاش سے اندازہ ہوتا تھا کہ نوال نے کوئی قیمتی چیز کھو دی ہے۔

ایام طفولیت اور بچپن کی مشکلات کے بارے میں نوال نے بتایا کہ وہ اپنے بیمار والد اور والدہ کے ہمراہ حجاز کو چھوڑ کر ریاض کے لیے عازم سفر ہوئے۔ ان کی والدہ کے پاس پونجھی کے طور صرف ایک سلائی مشین تھی جس کی مدد سے وہ کپڑوں کی سلائی کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی۔ اس وقت ان کے خاندان کے مالی حالات انتہائی خراب تھے۔ والد بیماری کے باعث صاحب فراش تھے اور ان کے پانچ بہن بھائیوں کی روزی روٹی کا انتظام ان کی والدہ کے سرتھا۔

نوال بخش کو بچپن ہی میں اپنے غریب گھرانے کی دیکھ بحال، صفائی اور کھانا پکانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ تب اس کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس کی والدہ کو کام اور والد کی دیکھ بحال سے فرصت نہ ملتی۔

سنہ 1964ء کو ریاض میں پہلا ریڈیو چینل قائم ہوا۔ اپنے بھائی توسط سے نوال بحش کو بارہ سال کی عمر میں ریڈیو میں جانے کا موقع ملا۔ اس کے بعد وہ ریڈیو اور ٹی وی چینل کا حصہ بن گئی۔ پہلے وہ کئی سال تک ریڈیو پر پروگرام پیش کرتی رہی۔

اس کے مشہور پروگراموں میں ’خوش حال گھرانہ‘ سلامات زیادہ مقبول ہوئے۔ سنہ ستر کے عشرے میں نوال بحش کی ریڈیو میں کام کی اجرت 15 ریال فی پروگرام تھی۔ تاہم بعد ازاں شاہ فیصل مرحوم نے اپنے دور میں ٹی وی پروگرام کامعاوضہ 50 ریال کردیا۔ شاہ فیصل کے دور میں نوال بحش کو ٹی وی پر غیر معمولی شہرت ملی۔

شاہ فیصل سے ملاقات

نوال بخش نے بتایا کہ اس کی شاہ فیصل مرحوم کے ساتھ بھی یادیں وابستہ ہیں۔ ریڈیو میں مدت مدید تک پروگرام پیش کرنے کے بعد جب میں ٹی وی چینل پر آئی۔ اس کا آغاز 1385ھ سے 1390ھ کے آغاز تک ہے۔ اس وقت لوگ خواتین کے ٹی وی چینل پر کام کو معیوب خیال کرتے تھے۔ میں ٹی وی چینل کی ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے تھی۔ میرے تعلیمی ادارے کی ایک عراقی نژاد خاتون پرنسپل نے مجھے تعلیم سے نکال دیا۔ میں دکھی دل کے ساتھ اپنی والدہ کے پاس گئی اور سارا ماجرا بیان کیا اور بتایا کہ میرا قصور صرف یہ ہےکہ میں ایک ٹی وی چینل پر پروگرام پیش کرتی ہوں۔

ٹیلی ویژن چینل کےڈائریکٹر فوزان الفوزان کو جب اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے تجویز دی کہ میں اپنا مسئلہ شاہ فیصل اور ان کے ولی عہد شاہ خالد کے سامنے پیش کروں۔ میں نے ہمت کی اور شاہ فیصل کے دفتر میں جا پہنچی اور بالآخر مجھے اندر جانے اور ملاقات کی اجازت بھی مل گئی۔

شاہ فیصل اپنی ہمیشرہ شہزادی العنود کے گھر کے ایک کمرے کو دفتر کے طورپر استعمال کرتے تھے جو ہروقت لوگوں سے کچھا کھچ بھرا رہتا تھا۔ میں شاہ فیصل کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے سارا قصہ سنا اور کہا کہ میں الشیخ ناصر الراشد سے سفارش کروں گا اور تم تین دن بعد دوبارہ اپنے تعلیمی ادارے میں پڑھنے جاسکو گی۔

نوال کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل کی رعب دار شخصیت سے مجھے خوف سا محسوس ہوا مگر ولی عہد شہزادہ خالد نے مسکرا کر کہا کہ آپ ٹیلی ویژن چینل کی پیش کارہ ہیں۔ شاہ فیصل کی مجلس سے خوشی خوشی واپس لوٹیں۔ شاہ فیصلہ چونکہ اپنی ہمشیرہ کےگھر کےایک کمرے میں تھے اور ان کی ہمشیرہ شہزادی العنود اپنے بھائیوں شاہ فیصل اور شہزادہ خالد کے لیے چائے، کافی اور دیگر اشیا کا اہتمام کرتی۔ نوال کہتی ہیں کہ شاہ فیصل کے ساتھ یہ ان کی تاریخی ملاقات تھی جو آج بھی انہیں اچھی طرح یاد ہے۔

شادی اور بیرون ملک تعلیم

نوال بخش ایک غریب گھرانے کی چشم وچراغ تھی، یہی وجہ کہ پندرہ سال کی عمر میں ریاض میں اس کی شادی ’صالح الملیک‘ نامی ایک پڑوسی نوجوان سے کردی گئی۔ الملیک کا خاندان روایت پسندی کی طرف مائل تھا اور ان کے گھر میں ٹیلی ویژن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

نوال نے بتایا کہ روایت پسند ہونے کے باوجود سسرال نے میری بیرون ملک تعلیم پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ بیرون ملک گئی اور کیمرج یونیورسٹی سے زبان ودلب کی تعلیم مکمل کرنے اور 10 سال بیرون ملک رہنے کے بعد وطن واپس ہوئی۔

نوال کا کہنا ہے کہ اسے یاد ہے جب وہ برطانیہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس ہوئی یہ 1396سنہ ھجری تھا۔ اسی سال اللہ نے انہیں ایک بیٹے کی نعمت سےنواز جس کا نام شاہ عبدالعزیز کی نسبت سے عبدالعزیز رکھا گیا۔ اس نے کینیڈاسے تعلیم مکمل کی ہے اور اب سعودی عرب میں ڈاکٹر ہے۔ اس کی ایک بیٹی نوف بھی ڈاکٹر ہیں جب کہ ایک بیٹی نجود اور بیٹے فیصل نے جاپانی زبان سیکھ رکھی ہے۔

نوال بخش کا کہنا ہے کہ سنہ 1400ھ کے بعد سعودی عرب میں ٹیلی ویژن چینل کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری ہوا جس میں خواتین کے پروگرامات کو بہت محدود کردیا گیا۔ خواتین صرف عائلی نوعیت کے پروگرام پیش کرسکتی تھیں۔ اس نے اس عرصے میں بھی ٹی وی چینل پر متعدد پروگرامات پیش کیے۔