.

ملائشین شہزادی کی رنگا رنگ شاہانہ تقریب میں ولندیزی نومسلم سے شادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے ایک طاقتور سلطان کی بیٹی کی ایک پروقار اور شاہانہ تقریب میں اپنے ولندیزی منگیتر سے شادی ہوگئی ہے۔

اکتیس سالہ شہزادی تنکو تن آمنہ سلطان ابراہیم ریاست جوہر کے سلطان کی اکلوتی بیٹی ہیں۔وہ سوموار کو اٹھائیس سالہ ڈینس محمد عبداللہ سے رشتہ ازواج میں منسلک ہوگئی ہیں۔ان دونوں کے درمیان گذشتہ تین سال سے پیار ومحبت کا سلسلہ چل رہا تھا اور یہ دونوں کے درمیان آج دائمی تعلق پر منتج ہوا ہے۔

ولندیزی محمد عبداللہ نے تین سال قبل اسلام قبول کیا تھا۔ان کی شہزادی سے شادی کی رنگا رنگ تقریب جنوبی شہر جوہر باہرو میں واقع شاہی خاندان کے محل سیرین ہل میں منعقد ہوئی ہے۔ تقریب میں شاہی خاندان کے افراد اور ان کے دوست و احباب شریک تھے۔

دُلھن نے ملائشیا کا روایتی عروسی لباس زیب تن کررکھا تھا اور دُلھا سفید شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔شاہی پریس دفتر کے مطابق دُلھا ڈینس محمد نے محل کے ایک خاص کمرے میں دُلھن تنکو آمنہ کو شادی کی انگوٹھی پہنائی اور انھیں صدیوں پرانی رسم کے مطابق ساڑھے بائیس رنگٹ ( قریباً پانچ ڈالر) کی رقم مہر کے طور پر ادا کی ہے ۔نو بیاہتا جوڑے نے اپنے والدین ، پھوپھیوں اور چچاؤں کے ہاتھوں کو احترام میں بوسے بھی دیے۔

شادی کی بڑی تقریب سوموار کی شب منعقد ہورہی تھی اور اس میں بارہ سو کے لگ بھگ مہمانوں کی شرکت متوقع تھی۔ اس تقریب کے انعقاد کے لیے حالیہ دنوں میں محل میں زبردست خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور اس کو گلدستوں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا ہے۔

سلطان آف جوہر کے نئے داماد نیدر لینڈ ز میں پیدا ہوئے تھے اوران کا خاندانی نام ڈینس ورباس تھا لیکن انھوں نے 2015ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ڈینس محمد عبداللہ رکھ لیا تھا۔وہ اس وقت جو ہر ہی میں ایک پراپرٹی ڈویلپمنٹ کمپنی میں کام کررہے ہیں۔

جوہر کا شاہی خاندان بہت امیر اور طاقتور ہے اور اس کی اپنی نجی فوج ہے۔یہ ملائشیا کی واحد ریاست ہے جس کی اپنی فوج ہے۔واضح رہے کہ ملائشیا میں اسلامی بادشاہت کا ایک منفرد نظام رائج ہے اور اس مسلم اکثریتی ملک میں ہر پانچ سال کے بعد نو ریاستوں کے حکمرانوں میں سے کسی ایک کوبادشاہت سونپ دی جاتی ہے۔

ملائشیا کے موجودہ شاہ سلطان محمد پنجم کا تعلق قدامت پسند شمالی ریاست کلنتان سے ہے۔ وہ 2021ء میں بادشاہت سے سبکدوش ہوں گے۔اس انتظام کے تحت ڈینس محمد کبھی بھی بادشاہت پر فائز نہیں ہوسکتے کیونکہ ملائشیا کی ریاستوں کے حکمراں خود اپنے میں سےکسی ایک کا شاہ کے طور پر انتخاب کرتے ہیں اور وہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیندہ بادشاہ کون ہوگا۔