.

عہدِ نبوّت سے آج تک۔۔ سفرِ حج کے مشہور راستے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں طائف کا ضلع اس حوالے سے امتیازی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں مملکت کے جنوب، شمال، مشرق اور مغرب سے آنے والے مرکزی راستوں کا سنگم واقع ہے۔ طائف کو مکہ مکرمہ سے ملانے والے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ 'جبلِ کرا' کے ذریعے جاتا ہے جس کی مسافت تقریبا 80 کلومیٹر ہے جب کہ دوسرا راستہ 'السیل الکبیر' کا ہے جس کی مجموعی مسافت 100 کلومیٹر کے قریب ہے۔

یہ راستے حج کے رُوٹس میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ریاض ، مشرقی صوبے اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے آنے والے عازمین حج 'ریاض – طائف' راستے سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔ اس کے علاوہ مملکت کے جنوب اور یمن سے آنے والے عازمین جنوبی راستے سے مقامات مقدسہ کا رخ کرتے ہیں۔

طائف میں مکہ مکرمہ پہنچانے والے 13 سے زیادہ رُوٹس ہیں۔

تاریخی مطالعوں کے محقق منصور الحارثی نے ان رُوٹس کی تفصیل پر روشنی ڈالی ہے۔

عین زبیدہ کا رُوٹ: یہ دو حصوں میں منقسم ہے جو طائف سے 65 کلومیٹر شمال میں عشیرہ کے علاقے میں جا کر ملتے ہیں۔ اس روٹ پر پڑاؤ کے کئی مقامات اور تالاب ملتے ہیں۔ مغرب کی سمت وادی اوطاس کے بعد یہ روٹ مکہ مکرمہ کی اراضی میں داخل ہوتا ہے۔

العصبہ کا روٹ: یہ طائف سے گزرتا ہے اور ربيع، الحارث اور ثقیف قبیلوں کے علاقوں کو ملاتا ہے۔ ربیع کے مقام سے یہ روٹ دو شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ان میں ایک مکہ مکرمہ جاتا ہے اور دوسرا "عقبہ سلامیہ" کا راستہ ہے۔

نخلہ کا روٹ: یہ اس مشہور کھجور کے درخت کے نام سے موسوم ہے جس کے قریب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نماز بھی ادا فرمائی تھی۔ اس کے بعد وہاں جِن کے حوالے سے واقعہ پیش آیا تھا۔

الیمانیہ کا روٹ: اس کو یہ نام مکہ مکرمہ کی دائیں سمت میں واقع ہونے کے سبب دیا گیا۔ مصری فوج کا معروف افسر محمد صادق پاشا اس راستے سے گزرا تھا اور اس نے اپنی کتاب "الرحلات الحجازيہ 1268هـ" میں اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ راستہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ مکہ مکرمہ سے الزیمہ تک ، دوسرا حصہ السیل تک اور تیسرا حصہ طائف تک ہے۔

الثنیہ کا روٹ: یہ شمالی الہدا میں ہذیل قبیلے کے علاقے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے مغرب میں وادی حنین آتی ہے۔ یہ وادی شرقہ کے بالائی حصے میں الخلصہ گاؤں سے گزرتا ہے۔ یہ اونٹ پر سوار اور پیدل چلنے والے حجاج کرام اور دیگر لوگوں کا راستہ تھا۔ اہلِ حجاز کے لیے یہ راستہ قدرتی خوب صورت مناظر کے سبب زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پہاڑی راستے میں واقع ٹیلے دیگر راستوں کے مقابلے میں نسبتا آسان ہیں۔ ابنِ ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی کے وقت اس راستے پر چلے تھے۔ طبری نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

خُرُوب کا روٹ: یہ وادی یعرج اور ثنیہ کے درمیان ایک پہاڑ میں بڑے سوراخ سے نکلتا ہے۔ یہ سوراخ حجاج اور مسافروں کے لیے ایک پرانا روٹ ہے جہاں سے وہ اونٹوں پر سوار یا پیدل گزرتے تھے۔ "خُروب" ایک پودا ہے جس کا انگریزی میں سائنسی نام Prosopis farcta ہے۔

صَرّ کا روٹ: یہ طائف اور مکہ کو ملانے والے راستوں میں ایک قدیم روٹ ہے۔ یہ جبلِ کرا کے شمال میں ہذیل قبیلے کے مقام سے خروب اور یعرج کے درمیان سے گزرتا ہے۔ اس روٹ پر واقع پہاڑ مغرب کی سمت حنین اور شرائع کی جانب پھیلے ہوئے ہیں۔

یعرج کا روٹ: وادی نعمان کی سمت واقع ایک پہاڑ یعرج میں سے نکلنے والا روٹ جبل کرا کے شمال میں مکہ مکرمہ کو طائف سے جوڑتا ہے۔ یہ پہاڑی روٹ کرا سے زیادہ آسان ہے۔

کرا کا روٹ: یہ جبلِ کرا کے راستے ایک بلکہ تین مشہور روٹ ہیں۔ پہلا روٹ پیدل چلنے والوں کے لیے ، دوسرا روٹ اونٹوں پر سوار افراد کے لیے اور تیسرا روٹ گدھوں اور خچر سواروں کے لیے ہے۔ یمنی مؤرخ اور شاعر عمارہ الیمنی نے اپنی کتاب "تاریخِ یمن" میں اور گیارہویں صدی کے ایک سائنس داں العیاشی نے اپنی کتاب "ماء الموائد" میں اس راستے کا ذکر کیا ہے۔

علق کا روٹ: علق کا روٹ شمال میں کرا کے اور جنوب میں عفار قریش کے راستے طائف کو مکہ مکرمہ سے ملاتا ہے۔

عفار کا روٹ: اس کا نام عفار کے درخت (چقماق بنانے کا درخت) سے منسوب ہے۔ یہ جبل کرا کے شمال کی سمت سے علق کے روٹ پر ہی گامزن ہوتا ہے۔ چوں کہ عفار سے طائف تک علق کے روٹ کا دوسرا نام ہے لہذا اس راستے کو عفار کے روٹ کا نام دیا گیا۔ یہ وادی نعمان پر اترتا ہے۔ عفار میں آل زید قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔

حدب کلوہ کا روٹ: یہ راستہ وادی نعمان سے گزرنے والے پہاڑ جبل کلوہ کے اندر سے گزرتا ہے اور طائف کو تہامہ سے جوڑتا ہے۔ یہ عفار کے جنوب میں ہذیل قبیلے کے مقام پر واقع ہے۔

المحضرہ کا روٹ: یہ اونٹ سواروں کا ایک پرانا روٹ ہے۔ پتھروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ تہامہ کو سوالمہ سے ملاتا ہے۔ وادی رہجان کی جانب سے چڑھائی کے ذریعے اس تک پہنچا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ المحضرہ ، الثنیہ اور پھر الکوثر سے گزرتا ہوا ریع المحرم پر نکلتا ہے جو مغرب کی جانب سے سوالمہ اور جنوبی اور مشرقی سمت سے الخلد کے درمیان ہے۔

ظبیات کا روٹ: یہ لفظ ظبیات دراصل ظبیہ کی جمع ہے۔ ظبیہ عربی زبان میں ہرنی کو کہتے ہیں۔ یہ روٹ طائف کے مغربی بالائی علاقوں کو جبل ظبیان کے ذریعے تہامہ سے جوڑتا ہے۔

حويہِ نمار کا روٹ: یہ بنی سفیان اور ہذیل کے علاقوں میں جنوب کی سمت جبلِ دکا کے عقب سے نکلتا ہے۔ اس کے بعد حویہِ نمار پر اترتا ہے۔ یہ پانی کا ایسا مقام ہے جہاں ہذیل کا قبیلہ قرح سکونت پذیر ہے۔ اس کے بعد یہ روٹ وادی سیل پہنچتا ہے اور پھر حبلان اور جیلین کے پہاڑوں کے بیچ سے پہلے کاحل اور پھر ملیحاء تک آتا ہے۔ اس کے بعد البیضاء اور پھر مکہ مکرمہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔