.

’منیٰ‘ مٹی کے گھروندوں سےسب بڑی عالمی خیمہ بستی تک!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دارۃ الملک عبدالعزیز نے حال ہی میں مشعر منیٰ کی 109 سالہ پرانی تصویر جاری کی۔ یہ تصویر سنہ 1908ء میں حج کے موقع پر لی گئی تھی۔ تب منیٰ میں حجاج کرام کے قیام کے لیے منٹی کی جھونپڑیاں بنائی گئی تھیں اور حجاج کرام یوم ترویہ کے دوران ان جھونپڑیوں میں قیام کرتے تھے۔ آٹھ ذی الحج کو یوم ترویہ کے موقع پر حجاج کرام رمی جمرات کرتے ہوئے جمرہ العقبہ، جمرہ وسطیٰ اور جمرہ صغریٰ کو کنکریاں مارتے ہیں۔

منیٰ کی ایک دینی تاریخی اہمیت ہے۔ اس روز اللہ کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں پر شیطان کو کنکریاں ماریں اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی کا عزم کیا۔ اس کے علاوہ منیٰ میں قائم مسجد الخیف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے قبل انبیاء نے نمازیں ادا کیں۔ اس کی وجہ شہرت دور نبوت میں پہلی اور دوسری بیعت بھی ہے۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ اسی جگہ عمل پذیر ہوئیں۔

منیٰ مسجد حرام سےچھ کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ یہ 25 لاکھ مربع میٹر پر پھیلا ایک وسیع وعریض میدان ہے۔ اس میدان میں حجاج کرام کے لیے دنیا کی سب سے بری خیمہ بستی بسائی گئی جس میں ایک لاکھ 60 ہزار خیمے لگائے گئے ہیں۔ فائر پروف ہونے کے ساتھ ساتھ ان خیموں میں مضر صحت گیسوں کے اخراج کا بھی بندوبست ہے، نیز موسمی عوامل بھی ان پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔ اس جگہ ایک ہی وقت میں 27 لاکھ حجاج کرام قیام کرسکتے ہیں۔