.

’ایرانیوں کو جنت میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جائے‘

سرکاری عقاید قوم پر مسلط کرنے کے لئے مقرب خامنہ ای کا انوکھا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہ بر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مقرب خاص اور سرکردہ شیعہ مذہبی رہ نما علی سعیدی نے کہا ہے کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ ایرانی اقوم کو جنت میں بھیجنے کے لیے زمین ہموار کرے‘۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عالم دین کا یہ بیان ان لوگوں کے احتجاج کا جواب ہے جو ریاستی فلسفہ عوام الناس پر مسلط کرنے کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ ’قوم کو زبردستی جنت نہیں بھیجا جا سکتا‘۔

فارسی میں شائع ہونے والی ’نامہ نیوز‘ کے مطابق علامہ علی سعیدی نے پاسداران انقلاب کی ’ثار اللہ ‘ کور کے زیر اہتمام جنوبی شہر کرمان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ قوم کو زبردستی جنت نہیں بھیجا جا سکتا، مگر ایسی باتیں کرنے والوں کا مناسب جواب یہ ہے کہ ہمیں قوم کو جنت بھیجنے کے لیے راہ ہموار کرنی چاہیے۔

آیت اللہ علی سعیدی ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے پاسداران انقلاب میں مندوب خاص ہیں۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ ایران کے تمام سول اور عسکری اداروں میں سپریم لیڈر کے دسیوں مندوبین موجود ہیں۔ یہ مندوبین اداروں اور سپریم لیڈر کے درمیان ربط کا ذریعہ ہیں جنہیں ایرانی دستور کے تحت ولایت فقیہ کے سربراہ کے منصب پر فائز ہونے کے باعث مطلق اختیارات حاصل ہیں۔

علی سعیدی نے ولی الفقیہ کی ذمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر احکام الہیٰ کے نفاذ کا ذمہ دار، شریعت کے اظہار اور اس کے نفاذ کا مرجع ہے‘۔

اہل تشیع کے ہاں بہت سے لوگ ولایت فقیہ کے سربراہ کو مطلق اختیارات دینے کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام اختیارات کا مالک ولی فقیہ کو قرار دینے کے بجائے اختیارات اس شخص کو منتقل کرنے چاہئیں جو امام غائب کا نائب ہو اور امام غائب کی عدم موجودگی میں ان کی جگہ امت کی قیادت کا فریضہ انجام دے۔

ظہور مہدی، اور شام، عراق، فلسطین ولبنان میں مداخلت

ایرانی سپریم لیڈر کے مندوب علی سعیدی نے کہا کہ ایران کے ’اسلامی انقلاب‘ نے اسلام کے گلوبلائیزیشن کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے شام، عراق، لبنان اور فلسطین میں تہران کی مداخلت کی حمایت کی اور کہا کہ بعض دفعہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ’شام، فلسطین، عراق اور لبنان کے ساتھ ہمارا کیا رشتہ ہے؟ تو ہمارے پاس اس کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ’ہمارا نظام اپنے کندھوں پر بھاری ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ ذمہ داری ظہور مہدی کے لیے راہ ہموار کرنے کی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی قوم اور ملک کو ظہور مہدی کے لیے تیار کرنا ہو گا۔

خامنہ ای کے مندوب نے شام میں جاری خانہ جنگ میں ایران کے ملوث ہونے کا دفاع کیا اور کہا کہ شام اایران کے لیے سرخ لکیر ہے۔ وہاں پر اہل بیت اطہار کے مزارات ہیں جن کا دفاع ایران کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایران کی دوسری ذمہ داری وہاں کے مزاحمتی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ شام کے مزاحمتی نظام کا سقوط ایران کے لیے سنگین خطرے کا موجب بن سکتا ہے۔