شام میں ایرانی سرگرمیوں کی قیادت حزب اللہ کے ہاتھ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنانی ملیشیا حزب اللہ خطے میں ایک نیا کردار ادا کر ہی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کئی دہائیوں سے حزب اللہ یہ دعوی کرتی آ رہی ہے کہ اس کے قیام کا مقصد صرف اسرائیل کا مقابلہ کرنا ہے۔

حزب اللہ کے نئے کردار میں بہار عرب کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت کے بعد خاص طور پر اضافہ ہو گیا۔ بہار عرب کے بعد خطے میں سیاسی اور سکیورٹی بحرانات نے جنم لیا جن میں دہشت گردی اور شدت پسندی کا پھیلاؤ سرفہرست ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک بازو شمار ہونے کے سبب حزب اللہ ملیشیا نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کوشش کی اور اپنے سیکڑوں جنگجوؤں کو شام میں جھونک دیا۔

سال 1982 میں حزب اللہ کے قیام کے بعد سے تہران نے اس لبنانی ملیشیا پر اربوں ڈالر کی برسات کر ڈالی۔ سفارتی ذرائع نے اس رقم کا اندازہ دو ارب ڈالر لگایا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تہران شام میں اپنی جنگ کے واسطے سالانہ 35 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کرتا ہے

دوسری جانب حزب اللہ ملیشیا نے کبھی اس بات کا انکار نہیں کیا کہ وہ ایران سے باقاعدہ طور پر فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔ ایران ہتھیاروں بالخصوص جدید ترین بیلسٹک میزائل "فاتح" کے ذریعے بھی حزب اللہ کی معاونت کر رہا ہے۔

جہاں تک زیادہ تر فنڈنگ کا تعلق ہے تو اس کا ذریعہ ایران میں مرشد اعلی علی خامنہ ای کا دفتر ہے۔ ان مالی رقوم میں زکات کی رقم بھی شامل ہوتی ہے جو کمانڈروں کو شام بھیجے جانے کے کام لائی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے ایرانی نظام کے عناصر کو دھاوؤں اور چھاپوں کی تربیت فراہم کی جاتی ہے تا کہ وہ دہشت گرد کارروائیاں انجام دے سکیں۔ ان میں شامی عوام کا قتل، ان کو بے گھر کرنا، قید خانوں میں ان پر تشدد کرنا اور ان کے خلاف موت کے گھاٹ اتارنے کی کارروائیاں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بچوں کو بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ منشیات کی لعنت بھی پھیلائی جا رہی ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق حزب اللہ کے لیے مختص بجٹ اب اعلانیہ اور کھلا ہے۔ اس لیے کہ یہ ایرانی پاسداران انقلاب کی کوشش کا ہی ایک حصہ بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں