.

افغانستان :امریکی فوج کی ایک اور توہین آمیز حرکت اور پھر معافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں امریکی فوج نے انتہائی توہین آمیز اور شرمناک حرکت کی ہے۔ اب کے اس نے ایک ایسا پمفلٹ تیار کیا ہے جس پر کتے کی تصویر ہے اور اس پر قرآنی آیت لکھی ہوئی ہے ۔اس توہین آمیز پمفلٹ کو امریکی فوج نے شمالی صوبے پروان میں گرا یا ہے۔

اس پرچے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے۔اس میں ایک شیر ایک سفید کتے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔کتے کے جسم پر مسلمانوں کے پہلے کلمہ طیبہ کے الفاظ لکھے ہیں۔ امریکیوں نے اس کتے کو طالبان مزاحمت کاروں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ ان کے جھنڈے کا رنگ بھی سفید ہے۔

کتا ایک پلید جانور ہے اور مسلمانوں اس کو گھر میں رکھنا معیوب سمجھتے ہیں۔اسلام کے کلمہ کو ایک نجس جانور پر لکھنا بہت ہی قابل اعتراض اور جارحانہ حرکت ہے۔اس پرچے پر درج عبارت کے الفاظ یہ ہیں:’’ ان کتوں سے اپنی آزادی واپس لیجیے۔ان دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی مدد کیجیے۔اپنی آزادی واپس لیجیے اور سکیورٹی کو یقینی بنائیے‘‘۔

امریکا کی قیادت میں نیٹو فورسز طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف مقامی آبادی کی حمایت کی غرض سے اس طرح کی اشتعال انگیز عبارتوں پر مبنی پرچے گراتی رہتی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے طالبان کی تحقیر کے لیے کتے پر کلمہ طیبہ کے الفاظ لکھ دیے ہیں اور اس طرح اسلام اور مسلمانوں دونوں کی بدترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

سوشل میڈیا کے صارفین نے کلمہ اسلام کی اس طرح بے توقیری کی شدید مذمت کی ہے۔ایک صارف نے تو فیس بُک پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ کافر اور ان کے غلام موت کے حق دار ہیں ‘‘۔

ایک اور نے لکھا:’’ انھوں نے ایک ایسے ملک میں یہ حرکت کی ہے جس کی 99.9 فی صد مسلم آبادی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ مزاحمت کار اس پر کس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔

افغانستان میں امریکا اور نیٹو کی خصوصی فورسز کے سربراہ میجر جنرل جیمز لنڈر نے اس پمفلٹ کے ڈیزائن پر معافی مانگ لی ہے اور اس کو ایک غلطی قرار دیاہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ اس پمفلٹ میں غلطی سے ایک ایسی تصویر شامل ہے جو مسلمانوں اور اسلام دونوں کے لیے انتہائی توہین آمیز ہے۔میں مخلصانہ طور پر اس پر معذرت خواہ ہوں۔ ہمیں اسلام اور دنیا بھر میں اپنے مسلم شراکت داروں کا احترام ہے‘‘۔

صوبہ پروان میں واقع بگرام ائیربیس پر موجود خصوصی آپریشن فورسز کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

یادرہے کہ 2012 ء میں امریکی فوجیوں نے افغانستان میں قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کردیے تھے ۔اس توہین آمیز حرکت کے خلاف ملک میں کئی روز تک پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے تھے اور ان میں کم سے کم چالیس افراد مارے گئے تھے۔