.

صحت مند دماغ اور صحت مند دل لازم وملزوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’صحت مند دل اور دماغ‘ ایک محض مقولہ ہی نہیں بلکہ ناقابل تردید سائنسی حقیقت ہے۔ امریکا میں امراض قلب اور دماغی امراض سے نجات کے حوالے سے کام کرنے والی دو تنظیموں نے اپنی رپوٹس میں بتایا ہے کہ تندرست دماغ اور تندرست دل ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزم ہیں۔

رپورٹس میں حیرت انگیز طور پربیان کردہ حقائق میں کہا گیا ہے کہ جن امور، غذاؤں یا ماکولات ومشروبات سے دماغ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہی سے دل کی صحت بھی کمزور ہوتی ہے۔ اسی طرح جن امور کی انجام دہی مثلا ورزش، متوازن خوراک اور سگریٹ نوشی سے پرہیز نہ صرف دل کو تقویت دیتے ہیں بلکہ دماغ اور قوت حافظہ کے لیے بھی بہت مفید ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دل ودماغ کی صحت کے لیے کام کرنے والی امریکی تنظیموں کی مشترکہ رپورٹ سائنسی جریدے ’اسٹروک‘ میں شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دماغ اور دل دونوں بھرپور انداز میں خون کی ترسیل کے محتاج ہیں۔ مرور وقت کے ساتھ خون کی نالیاں تنگ یا سکڑاؤ کا شکار ہوسکتی ہیں۔ خون کی وریدوں کے سکڑاؤ یا تنگ ہونے سے نہ صرف عارضہ قلب لاحق ہوسکتا ہے بلکہ دماغی عوارض کا بھی اتنا ہی خطرہ موجود رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دماغ کی صلاحیت بھی بہ تدریج متاثر ہوتی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خون کی نالیوں کو نرم رکھنے والی غذاؤں کے استعمال سے ہم نہ صرف دل کو بیماریوں سے بچا سکتے ہیں بلکہ دماغ کو بھی خطرات سے بچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل ودماغ کو تندرست رکھنے کے لیے خون میں شوگر اور کولسٹرول کی مقدار کو متوازن رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر خون میں کولسٹرول اور شوگر کی مقدار میں عدم توازن ہے تو اس کے نتیجے میں بھی خون کی گردش اور اس کی دل و دماغ تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔

مشی گن یونیورسٹی کے میڈیکل کالج سے وابستہ محقق اور تحقیق کے نگران ڈاکٹر فیلپ جویلیک کا کہنا ہے کہ ہماری صحت کی تندرستی یا بیماری کا ایک بڑا تعلق ہمارے روز مرہ کے طرز زندگی سے بھی ہے۔ ہم چاہیں تو خون کی رگوں کو صحت مند رکھ کر دل اور دماغ دونوں کو عوارض سے بچا سکتے ہیں۔

اپنے ایک ایل میل بیان میں ڈاکٹر جوریلیک کا کہنا ہے کہ’ ہم سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دل ودماغ کو امراض سے بچانے کے کلیدی عوامل ’ڈائمنشیا‘ [دماغی کمزوری] کو روکنے یا اسے موخر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں‘۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2030ء تک دنیا بھر میں ڈائمنشیا کے شکار افراد کی تعداد 7 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور امریکا اس عارضے کے شکار افراد میں سب سے آگے ہوگا۔

دل ودماغ کو بھرپور انداز میں خون فراہمی جاری رکھنے کے لیے جہاں متوازن خوراک، صحت افزاء غذائیں استعمال کرنے پر زورد دیا جاتا ہے ہیوں ورزش بھی اس کا لازمی جزو ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند فشار خون، کولسٹرول کی مقدار میں کمی بیشی، شوگر کا غیر متوازن ہونا خون کی شریانوں کی کاکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ کمزوری دماغ کو درکار خون کی مقدار فراہمی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان یا تو ڈائمنشیا کا شکار ہوتا ہے یا دیگر دماغی عوارض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل ودماغ کی تندرستی برقراررکھنے اور انہیں امراض سے بچانے کے لیے قدرتی جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی مفید ہے۔