.

بھارتی سرکار کا کاشت کاروں سے بھونڈا مذاق ، ایک لاکھ کے قرض پر ایک پیسے کی معافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی سرکار نے کاشت کاروں سے ایک مرتبہ پھر بڑا بھونڈا اور سنگین مذاق کیا ہے اور ان کے ذمے واجب الادا ایک لاکھ روپے کے قرضے پر صرف ایک پیسہ کمی کا اعلان کیا ہے۔بعض کیسوں میں کاشت کاروں کو حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے قرضے کی کل رقم میں سے 68 پیسے تک کی معافی دی گئی ہے۔

بعض خبری اطلاعات میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کسانوں کو ایسے سرٹی فیکیٹس بھی جاری کیے جارہے ہیں جن میں پیسوں میں قرضوں کی معافی نوید سنائی گئی ہے جبکہ ان کے ذمے ہزاروں میں قرض کی رقم واجب الادا ہے۔زرعی قرضے بھارت میں غریب کاشت کاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور ان کی عدم ادائی سے پریشان حال کاشت کاروں کی خودکشی کی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

اس وقت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دان کاشت کاروں کو معاف کی جانے والی بہت تھوڑی رقم پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کررہے ہیں جبکہ حکمراں جماعت کے عہدے داروں کی جانب سے کاشت کاروں کو قرض معافی کے سرٹی فیکیٹس کی تقسیم کی خبریں بھی منظرعام پر آ رہی ہیں۔

بی جے پی کے زیر ِحکومت ریاست

ملک کی بڑی ریاست اتر پردیش ( یوپی) میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔اس نے ایک لاکھ روپے تک کے قرضے پر کچھ رقم کی معافی کا اعلان کیا ہے۔تاہم ایک خبری رپورٹ کے مطابق اس ریاست میں کاشت کاروں کا صرف 19 سے 50 پیسے تک قرض پر معاف کیا گیا ہے۔

ایک کاشت کار ایشور دیال نے بتایا ہے کہ ’’ حکومت نے قرض کی رقم میں سے صرف 19 پیسے معاف کیے ہیں ۔میں اب تک بہت زیادہ رقم خرچ کرچکا ہوں اور میں نے رعایت حاصل کرنے کے لیے متعدد دفاتر کے چکر کاٹے ہیں لیکن مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا ہے کہ مجھے صرف 19 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے‘‘۔

یہ صرف ایشور دیال کے ساتھ ہی ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ دوسرے کاشت کاروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ایک اور کاشت کار لالہ رام نے بتایا کہ اس کو 50 پیسے کی رعایت دی گئی ہے۔

موقر بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے ضلع متھر ا سے تعلق رکھنے والے ایک کاشت کار کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس کو اپنے ذمے واجب الادا ڈیڑھ لاکھ روپے کے قرض میں صرف ایک پیسے کی کمی کا سرٹی فیکیٹ تھمایا گیا۔

سال گرہ کا تحفہ

حکومت کے اس طرح کے غیر ذمے دارانہ اقدامات کے ردعمل میں ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اور طویل عرصے سے معاشی مشکلات کے شکار ایک کاشت کار نے احتجاج کا منفرد طریقہ اختیار کیا ہے اور اس نے قرضے پر ملنے والی 68 پیسے کی معافی کا چیک وزیراعظم نریندر مودی کو ان کی سال گرہ کے موقع پر تحفے کے طور پر بھیج دیا ہے۔

آندھرا پریش کے پسماندہ علاقوں میں کسان قحط ایسی صورت حال سے دوچار ہیں اور وہ اپنے ذمے واجب الادا قرضے کی بھاری رقوم ادا کرنے سے قاصر ہیں مگر ان سے حکومت سنگین مذاق کررہی ہے اور انھیں چند ٹکوں میں رعایت دے کر ٹرخا رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے کل چھیاسی لاکھ کاشت کاروں کو بی جے پی حکومت کی حاتم طائی کی قبر پر لات مار اس مہم سے فائدہ پہنچے گا اور ان خوش قسمت کسانوں کے نام بنکوں نے شارٹ لسٹ کیے ہیں۔