.

چینی خاتون پولیس اہلکار ملزمہ کی بیٹی کی رضائی ماں بن گئی

پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی انسانی ہمدردی میں رکاوٹ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی ہمدردی کے جذبات کسی شخص کئ لئے اس کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اس انسانی ہمدردی کا مظاہرہ چین کی ایک خاتون پولیس اہلکار کی جانب سے کیا گیا جس کا سوشل میڈیا کی دنیا میں غیرمعمولی چرچا جاری ہے۔

حال ہی میں میں ایک خاتون پولیس اہلکارنے عدالت میں پیش کی گئی ایک خاتون ملزمہ کی بھوکی شیر خوار بچی کو اپنا دودھ پلا کر جذبہ انسانی کا برملا اظہار کیا اور یہ ثابت کیا کہ پیشہ وارانہ ڈیوٹی کی انجام دہی کس کو انسانی ہمدردی کے جذبات کے اظہار سے نہیں روک سکتی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر یہ تصویر غیر معمولی طور پر مقبول ہوئی اور لوگوں نے خاتون پولیس اہلکار کے انسانی ہمدردی کے جذبے کو سراہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ واقعہ حال ہی میں شاملی چین کے علاقے شانشی میں پیش آیا جب ایک خاتون ملزمہ اپنے چار ماہ کی بچی کے ہمرارہ پیشی کے لئے عدالت پہنچیں۔ ملزمہ کو کمرہ عدالت میں طلب کر لیا گیا اور اس کی شیر خوار بچی ایک خاتون پولیس اہلکار جس کی شناخت لینا ھاؤ کے نام سے کی گئی ہے نے اپنے پاس رکھا۔ اس نے کمرہ عدالت سے باہر اس بچے کو اپنا دودھ پلایا۔

برطانوی اخبار ’ٹیلیگراف‘ کے مطابق بچی جب رونے لگی تو خاتون پولیس اہلکار نے اس کی ماں کی اجازت کے بعد اسے دودھ پلایا۔ اس دوران اس کی ایک دوسرے ساتھی اہلکار نے بچی کو دودھ پلانے کے عمل کی تصاویر بنا لیں اور انہیں انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دیا جو کچھ ہی دیر میں وائرل ہو گئیں۔

ملزمہ کی بچی کو دودھ پلانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے لینا ھاؤ نے کہا کہ اس نے بھی حال ہی میں ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ جب ملزمہ کی بچی چیخ وپکار کرنے لگی تو ہم سب پریشان ہو گئے۔ میں نئی نئی ماں بنی ہوں۔ میں نے بچی کو چپ کرانے کی بہت کوشش کی مگروہ خاموش نہیں ہوئی۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی خاتون پولیس اہلکار کےساتھ جب ایسا واقعہ پیش آئے تو وہ ایسا ہی کرے گی جیسا کہ اس نے کیا ہے۔ لینا کا کہنا ہے کہ اگر میں بچی کی ماں کی جگہ ہوتی اور وہ میری جگہ تو مجھے توقع ہے وہ بھی ایسا ہی کرتی جیسا میں نے کیا۔

خیال رہے کہ بچی کی ماں 34 سالہ ملزمہ پر چندے کی فرضی مہم چلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ خاتون نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔