.

کم سن بچے اکیلا چھوڑ کر ماں کے بیرون ملک سیر سپاٹے

بچوں کے معاملےمیں لاپرواہی برتنے پرخاتون کو9 لاکھ ڈالر جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماں کی اپنے بچوں کی دیکھ بحال، محبت اور ان کی حفاظت پوری دنیا میں ضرب المثل سمجھی جاتی ہے مگر بعض اوقات خواتین کی جانب سے اپنے ہی بچوں کے معاملے میں ایسی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مامتا کے بے لوث رشتے کی بھی توہین کا تاثرملتا ہے۔

حال ہی امریکا میں ایک خاتون اپنے چار چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھر پر اکیلا چھوڑ کر بیرون ملک سیرو سیاحت کے سفر پر نکل کھڑی ہوئی۔ بچوں کے معاملے میں اس طرح کی غفلت کا مظاہرہ کرنے پر امریکی عدالت نے خاتون کو نو ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی ریاست ’آئیوا‘ کے شہر جونسٹن کی 30 سالہ ’ایرین لی ماکہ‘ 20 ستمبر کو اپنے بچوں کو گھر پر بے یارو مدد گار چھوڑ کر سیر سپاٹے کے کے لیے جرمنی روانہ ہوگئی۔ گھر پر چھوڑے گئے دو بچوں اور دو بچیوں میں سے بڑے بچے کی عمر بارہ اور سب سے چھوٹے کی چار سال بتائی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کئی روز گذرنے کے بعد محلے کے لوگوں نے انہیں اطلاع دی کہ ایک گھر میں بچے اکیلے ہیں۔ پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں سے چار بچے ملے۔ اس کے علاوہ گھر سے ایک پستول بھی ملا ہے۔

پولیس نے بچوں کی ماں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے اس پر بچوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کا الزام عاید کیا ہے۔ اسی الزام کے تحت عدالت نے ملزمہ کو نو ہزار امریکی ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

شہری حکومت کی ترجمان گنیٹ ویلورڈینگ کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لوگ اپنے بچوں کو گھر پر اکیلا چھوڑ کر ضروری کام کے لیے باہر جاتے ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ماں اپنے بچوں کو بے یارو مددگار گھر پر چھوڑ کر بیرون ملک سیر سپاٹے پر گئی ہو۔ یہ مجرمانہ غفلت اور کھلی لاپرواہی ہے جس پر عورت کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔

امریکی اور عالمی اخبارات نے بھی اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اخبار ’ڈیلی میل‘ نے ماکہ کو امریکا میں ’بدترین ماں‘ قرار دیا۔ خبر کے فیس بک پر پوسٹ کئے گئے تبصروں میں بھی لوگوں نے خاتون کو ’بدترین ماں‘ لکھا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو تنہا گھر پر چھوڑ کرجانے والی ان کی ماں سے رابطہ کیا گیا تو پتا چلا کہ وہ جرمنی میں ہے۔ اسے فوری طور پر واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد وہ کل اتوار کو واپس پہنچی ہے۔

پولیس ترجمان لیفٹیننٹ لین اسویگن کا کہنا ہے کہ اگر خاتون دو گھنٹے کے لیے بچوں کو گھر میں اکیلا چھوڑ دیتی تو کوئی بات نہیں تھی مگر وہ گیارہ دن سے گھر سے ہی نہیں بلکہ ملک سے بھی چلی گئی تھی۔