.

مصری خاتون کا حوصلہ : خاوند کی دوسری شادی میں بھرپور شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک باحوصلہ خاتون نے اپنے خاوند کی دوسری شادی پر منھ نہیں بسورا ،اس کا بُرا نہیں مانا ،روٹھ کر میکے نہیں چلی گئیں بلکہ اس میں بھرپور شرکت کی ہے۔اس خاتون کی اپنے خاوند اور نئی سوتن کے ساتھ تصاویر کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔

لیکن ان تصاویر پر لوگوں نے ایسے ہی دوسرے موضوعات کی طرح حسب روایت اس خاتون کے خاوند کی دوسری شادی کے حق اور مخالفت میں تبصرے کیے ہیں۔بعض نے خاتون کے طرز عمل کو سراہا ہے تو کچھ نے خاوند کو دوسری شادی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان تصاویر کی تشہیر کے ساتھ ہی مصریوں میں آن لائن مردوں کی ایک سے زیادہ شادیوں کے موضوع پر نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے ۔انسانی حقوق کے کارکنان اور خواتین کے گروپوں نے مرد کی دوسری شادی کو ظالمانہ فعل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے اسلام میں دوسری شادی کے تصور سے انحراف کیا گیا ہے کیونکہ اسلام بیواؤں اور یتیموں کے تحفظ کے لیے ان سے دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے اور اس کے لیے بنیادی شرط یہ عاید کرتا ہے کہ مرد اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرے گااور کسی ایک کو دوسری پر ترجیح نہیں دے گا اور ان سے مساوی سلوک کرے گا۔

دوسری شادی کرنے والے اس مصری دُلھا کا نام معتز ہلال ہے۔انھوں نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اپنی دوسری شادی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ وہ اپنے خاندان میں توسیع اور مزید بچے چاہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے اپنی دوسری دُلھن کے ساتھ تصاویر کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔انھوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر کیسے وائرل ہوگئی ہیں۔