.

حلب سے متعلق فلم دیکھ کر برطانوی ایوارڈ جیوری کے آنسو تھم نہ سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی خاتون صحافی وعد الخطیب نے پیر کے روز معروف برطانوی Rory Peck ایوارڈ جیت لیا۔ الخطیب کو یہ ایوارڈ نومبر 2016 میں مشرقی حلب میں باقی رہ جانے والے آخری ہسپتال کے اندر کی عکس بندی پر مبنی فلم تیار کرنے پر دیا گیا۔ ایوارڈ کی جیوری کا کہنا ہے کہ "ہم نے اس وڈیو کو 5 مرتبہ سے زیادہ دیکھا اور ہر مرتبہ اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکے"۔ یاد رہے کہ پانچ ماہ تک جاری محاصرے کے بعد دسمبر 2016 میں شامی سرکاری فوج حلب شہر میں داخل ہو گئی تھی۔ اس سے قبل جولائی 2012 سے حلب پر شامی مسلح اپوزیشن کا کنٹرول ہو گیا تھا۔

حلب شہر اور اس کے باسیوں کو کئی برسوں تک مشکل ترین حالات کا سامنا رہا۔ اس دوران ہزاروں افراد قتل ہوئے ملبے تلے ننھے بچوں کی لاشیں نکالے جانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس شہر سے سامنے آنے والی بعض تصاویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ایوارڈ جیتنے والی فلم کی بات کی جائے تو اس میں حلب شہر کے ایک محلّے میں میزائل گرنے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری اور ہنگامی صورت حال کو دکھایا گیا ہے۔ اس دوران کئی بچے اور ایک مکمل خاندان زخمی ہوا۔

وڈیو میں ایک ماں کو اپنے بچوں پر بین کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ "آیت" نامی ایک بچی بھی نظر آرہی ہے جس کی عمر دو یا تین برس سے زیادہ نہ ہو گی۔ اس کے چہرے پر گرد و غبار اور تھوڑا خون لگا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ الم ناک مناظر جنگ کا حصہ ہوتے ہیں مگر کسی بھی دنیاوی ایوارڈ جیت لینے سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری کا ضمیر حرکت میں آئے۔

برطانوی روری پِک ایوارڈ ہر سال آزاد صحافیوں کی جانب سے تیار کی جانے والی بہترین وڈیو کو دیا جاتا ہے۔ شامی خاتون صحافی وعد الخطیب نے یہ ایوارڈ حلب کے مشرق میں تباہ کن بم باری کے بعد ایک ہسپتال کے اندر کے وحشت ناک مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لینے پر حاصل کیا۔

سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پردے کے پیچھے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے وعد الخطیب نے کہا کہ "میری توجہ صرف اس بات پر ہے کہ ہماری کہانی لوگوں تک پہنچ جائے"۔

یاد رہے کہ وعد الخطیب خود حلب یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔ انہوں نے متعدد بین الاقوامی اکیڈمیوں سے پیشہ ورانہ تربیت مکمل کی اور مشرقی حلب کے اندر کئی سلسلہ وار وڈیوز تیار کیں۔

ان کی تیار کردہ فلم میں کئی ڈاکٹر مل کر ایک چھوٹے بچّے لڑکے کو ہنگامی امداد دینے کی کوشش کر رہے ہیں مگر جلد ہی وہ دم توڑ دیتا ہے۔ اسی لمحے لڑکے کے بڑے بھائی کی آنکھوں میں کرب کا سمندر تیر جاتا ہے جو اپنے بھائی کے بستر کے پاس جھکا نظر آ رہا ہے۔

یاد رہے کہ "Rory Peck" ایوارڈ دیے جانے کا سلسلہ 1995 سے شروع ہوا۔ اس ایوارڈ کا نام شمالی آئرلینڈ کے آزاد صحافی روری پِک کے نام پر رکھا گیا جو 1993 میں روسی بحران کے دوران مسلح جھڑپوں کی کوریج کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔