.

جمائما خان کو ہراساں کرنے پرپاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو 8 ہفتے قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ایک عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور سماجی کارکن جمائما خان کو ایک سال تک مسلسل تنگ اور ہراساں کرنے کے الزام میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو قصور وار قرار دے کر آٹھ ہفتے قید کی سزا سنا دی ہے۔

استغاثہ کے مطابق جمائما خان کا 16 جولائی 2016ء کو اس ٹیکسی ڈرائیور حسن محمود سے پہلی مرتبہ ٹاکرا ہوا تھا۔تب انھوں نے موبائل فون ایپلی کیشن ’’ہیلو ‘‘کے ذریعے اپنی دوستوں کے ساتھ لندن میں کسی مقام سے اپنے گھر جانے کے لیے ٹیکسی منگائی تھی۔انھیں لینے کے لیے یہ پاکستانی ڈرائیور آیا تھااور اس نے ان کا ذاتی نمبر محفوظ کر لیا تھا۔

ستائیس سالہ حسن محمود کو جمائما خان سے گھر تک چھوڑنے کے دوران گفتگو کا موقع مل گیا اور اس نے چکنی چپڑی باتوں سے ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ ان کا بہت زیادہ مداح ہے ۔اس نے جمائما کے ساتھ سیلفی کی اجازت بھی مانگی ۔ان کی ہاں پر اس نے سیلفی بنائی اور پھر یہیں سے ا س نے جمائما کو موبائل فون پر تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔

لندن کے مشرقی علاقے والتھامسٹو سے تعلق رکھنے والے اس ٹیکسی ڈرائیور نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں جمائما سے کوئی سو دوسو مرتبہ فون پر رابطے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انھیں 1182 مرتبہ فون کیا۔203 پیغامات بھیجے اور اس نے 18 مختلف موبائل فون نمبرز سے یہ کالیں کی تھیں۔

ابتدا میں اس دل پھینک یک طرفہ محبتی نے جمائما خان کو یہ بتایا کہ جب انھوں نے عمران خان سے شادی کی تھی تو اس وقت سے ہی وہ ان کا مداح بن گیا تھا۔پہلے پہل اس نے انھیں بھابی کہنا شروع کیا اور پھر آہستہ آہستہ ذاتی قسم کی تعلق داری قائم کرنے کی کوشش کی اور ان سے کھلے بندوں محبت کا اظہار کردیا۔

حسن محمود نے ایک پیغام میں کہا کہ’’ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور آپ سے یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ میں آپ کا دوست کیوں نہیں ہوسکتا‘‘۔وہ مکمل طور پر جمائما خان کی زلف کا اسیر ہوچکا تھا۔جولائی 2017ء میں بھیجے گئے آخری دو پیغامات میں اس نے اپنی اس شدید خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان کے گھر آنا اور ان سے ملنا چاہتا ہے۔

پراسیکیوٹر رخسانہ ناصر نے مغربی لندن میں واقع آئسلورتھ کی شاہی عدالت کو بتایا کہ جمائما خان نے ابتدا میں تو پولیس کو اس معاملے سے آگاہ کرنے سے گریز کیا تھا لیکن معاملہ حد سے بڑھ گیا تو انھوں نے پولیس کا مکمل تفصیل سے آگاہ کردیا۔انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم بعض اوقات گھر میں آنے کے لیے پیغامات بھیجتا تھا اور رات کو بھی فون کیا کرتا تھا۔ اس لیے میرے دل میں خوف پیدا ہوگیا کیونکہ میں گھر میں اکیلی ہوتی ہوں۔

حسن محمود کے وکیل عمر علی نے اپنے مؤکل کا دفاع کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹیکسٹ پیغامات میں سے کوئی بھی دھمکی آمیز نہیں تھا۔انھوں نے جمائما کو تنگ کرنےکے الزام کی بھی تردید کی ہے۔البتہ یہ کہا ہے کہ ان کا مؤکل ’’ تشدد کے بغیر ہراساں کرنے کا مرتکب ہوا ہے‘‘۔وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ حسن محمود کی شادی گذشتہ سال ختم ہوگئی تھی اور وہ تب سے ڈیپریشن کا شکار ہے۔

عدالت کے جج مارٹن ایڈمنڈز نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حسن محمود کو اس مقدمے میں مجرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر اپنی حیثیت کا غلط استعمال کیا ۔ ا پنی ایک صارف کا ٹیلی فون نمبر لے لیا اور پھر اس سے مسلسل رابطے کی کوشش کرتا رہا اور اس نے اس مقصد کے لیے متعدد فون نمبرز استعمال کیے ہیں۔یہ سب باتیں اس کے خراب چال چلن کی عکاسی کرتی ہیں۔

جج نے پاکستانی ڈرائیور کو آٹھ ہفتے قید کی سزا سنائی ہے اور اچھے چال چلن پر 18 ماہ معطل قید کا حکم دیا ہے۔اس عرصے کے دوران میں اگر وہ کسی جرم کا مرتکب ہوا تو سیدھا جیل جائے گا۔عدالت نے اس کا ٹیکسی چلانے کا لائسنس بھی منسوخ کردیا ہے اور پانچ سال تک جمائما سے کسی قسم کا رابطہ قائم کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

یادرہے کہ جمائما خان گذشتہ تیرہ سال سے اپنے سابقہ خاوند عمران خان سے طلاق لینے کے بعد لندن میں مقیم ہیں۔ان دونوں کے درمیان 2004ء میں طلاق ہوگئی تھی جس کے بعد وہ اپنے دونوں بچوں سلیمان خان اور قاسم خان کو لے کر پاکستان سے برطانیہ لوٹ گئی تھیں۔وہ ارب پتی برطانوی کاروباری شخصیت آنجہانی سر جیمز گولڈ اسمتھ کی بیٹی اور برطانیہ کی قدامت پسند (کنزرویٹو) پارٹی کے رکن پارلیمان زاک اسمتھ کی بہن ہیں۔ زاک نے صادق خان کے مقابلے میں لندن کے میئر کا انتخاب لڑا تھا لیکن وہ ان سے ہار گئے تھے۔