.

موسیقی کا شوقین جزائری استاد داعش کے میرج دفتر کا انچارج کیسے بنا؟

ماسٹر حسین بوقطوف کو ٹی وی انٹرویو کے دوران لوگوں نے پہچان لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی نژاد ایک الجزائری اسکول ٹیچر جو کچھ عرصہ سے غائب تھا کے بارے میں حال ہی میں انکشاف ہوا کہ وہ شدت پسند تنظیم 'داعش' کی صفوں میں شامل ہوچکا ہے اور تنظیم کے شادی دفتر کا نگران ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حسین بوقطوف 2015ء میں داعش میں شامل ہونے کے بعد شام چلا گیا تھا۔ شام جانے کے بعد وہ الرقہ میں داعش کے سابقہ ہیڈکوارٹر میں تنظیم کی طرف سے ’میرج آفس‘ کا انچارج مقرر ہوا۔

حسین بوقطوف کا رہائشی تعلق الجزائر کے مشرقی شہر ‘تبسہ‘ سے ہے۔ تبسہ کے مقامی شہری حسین کو راک موسیقی کے دلدادہ اسکول ٹیچر کے طور پر جانتے ہیں۔ حسین بوقطوف کو حال ہی میں الرقہ سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ایک فرانسیسی ٹی وی نے اس کا انٹرویو نشر کیا ہے۔ ٹی وی پر دیکھتے ہی الجزائری شہری بالخصوص ’تبسہ‘ شہر کے رہائشیوں نے اسے پہچان لیا، حالانکہ اب اس کے چہرے کا حلیہ کافی بدل چکا ہے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سابق اسکول ٹیچر حسین بوقطوف انگریزی کے استاد تھے اور تبسہ شہر میں ان کے ہزاروں شاگرد موجود ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ ماسٹر بوقطوف داعش میں شامل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ تو راک موسیقی کا دل دادہ تھا، مخلوط محفلوں میں شرکت کرتا اور ان کی تصاویر بنانے کا شوقین تھا۔ وہ اپنے اہل خانہ اور پورے علاقے میں پرسکون زندگی گذارنے والا شخص تھا۔

حسین بوقطوف کے ایک ہمسائے عماد بن خدیم نے بتایا کہ ہم ایک ہی کالونی میں رہتے تھے۔ اسے راک موسیقی بہت پسند تھی اور ہم مذاق میں اسے ’حسین راک‘ کہا کرتے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ایک مہم جو انسان تھا مگر ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ اس مہم جوئی الجزائر سے شروع ہو کر برازیل، فرانس اور آخر میں شام کے الرقہ شہر میں داعش تک جا پہنچے گی۔

سنہ 1990ء کے عشرے میں حسین بوقطوف کو کسی کیس میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اس پر کالعدم اسلامک فرنٹ سے تعلق کا بھی الزام عاید کیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ سنہ 2000ء کے بعد روپوش ہوگیا تھا۔ اس کے بعد وہ برازیل چلا گیا۔ وہاں ایک فرانسیسی خاتون کے ساتھ دوستی کرلی، بعد ازاں اس کے ساتھ شادی کی اور فرانس کی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ کچھ عرصہ فرانس میں گذارنے کے بعد وہ داعش پر فریفتہ ہوا اور داعش میں شمولیت کے لیے الرقہ جا پہنچا۔

الجزائر میں حسین بوقطوف کے ایک جاننے والے سامی حنینی نے بتایا کہ حسین ان کا دوست تھا۔ وہ حیران ہیں کہ اس جیسا شخص داعش میں کیسے جاسکتا ہے۔ میرا اس کے ساتھ کافی میل جول رہا ہے مگر میں نے اسے ہمیشہ ایک متوازن اور احترام کرنے والا انسان پایا۔

حسین بوقطوف اس وقت شام میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کی تحویل میں ہے۔ فرانسیسی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ شام کا سفر کرکے اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ وہ اس پر بہت شرمسار ہے۔ اس نے بتایا کہ میں نے نہ تو لڑائی میں حصہ لیا اور نہ ہی عسکری تربیت حاصل کی۔ داعش میں میری ذمہ داری صرف انسانی امداد اور انتظامی نوعیت کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں حسین کا کہنا ہے کہ وہ واپس فرانس جانا چاہتا ہے تاکہ معمول کی زندگی دوبارہ شروع کرسکے۔