.

کینسر کی مریضہ مصری حجام نے مشکلات سے لڑنا کیسے سیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زندگی سے مایوسی کوئی معنی نہیں رکھتی، اس بات سے بڑھ کر اور کوئی خوبصورت بات نہیں ہوسکتی کہ انسان اللہ کی منشا اور رضا کو بہ خوشی قبول کرے اور قناعت کو اپنا شعار بنا لے۔

زندگی کے اس حسین فلسفے کی زندہ مثال دیکھنی ہو تو مصر کی اس انتیس سالہ خاتون حجام ’دینا امین‘ کو دیکھیں جو ایک ہی وقت میں دہری مصائب کا شکار ہے مگر اس نے اپنی ہمت سے تمام چیلنجز سے نمٹنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ مصر جیسے بنیاد پرست معاشرے میں کسی خاتون کا مردوں کی شیو بنانا، ان کی زلف تراشی ہی ایک بڑا چیلنج ہے مگر دینا امین رحم کے کینسر کا بھی شکار ہے۔ وہ کینسر کے موذی مرض کا کیمیائی علاج بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے خاندان کی کفالت بھی کرتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے دینا امین نے بتایا کہ اس نے سیلون پر کام کا آغاز خواتین کے ایک بیوٹی پارلر سے کیا۔ کچھ عرصہ کام کے بعد اس نے لیڈیز بیوٹی پارلر پر کام چھوڑ دیا اور ایک ایسا انوکھا کام شروع کیا جس کی معاشرے میں پہلے مثال نہیں ملتی۔

تو کیا مردوں نے اسے فوری طور پر ایک حجام کے طور پر قبول کرلیا؟ اس سوال کے جواب میں دینا نے بتایا کہ وہ پہلے کافی مشکلات کا شکار ہوئی۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے۔ مگر رفتہ رفتہ میں لوگوں کی باتیں سننے کی عادی ہوگئی اور میرے پکے گاہک بننے لگے۔

دینا کا کہنا ہے کہ ایک حجام کے طور پر اس کا تجربہ بتاتا ہے کہ خواتین کو ڈیل کرنا مشکل اور مردوں کو نسبتا آسان ہے۔ وہ نہ صرف مردوں کی حجامت بناتی، ان کی شیو کرتی، داڑھی بناتی ہے بلکہ ناخن بھی تراشتی ہے۔

اس نے قاہرہ میں الزمالک کالونی میں آٹھ سال پیشتر جینٹس سیلون قائم کیا۔ وہ تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی مگر جب اسے اپنی موذی بیماری اور گھر کے مالی حالات کا اندازہ ہوا تو تعلیم چھوڑ کر حجام کا کام شروع کردیا۔ یہ فن اس نے پہلے سیکھ رکھا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیماری کے باعث وہ بہت دیر تک کام نہیں کرپاتی، بہت جلد تھکن کا احساس ہونے لگتا ہے تاہم بیماری کے علاج اور اہل خانہ کی کفالت کے لیے اسے محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کو لکھا پڑھا کر ان کی امنگیں پوری کرنا چاہتی ہے۔ وہ اللہ سے کینسر کی بیماری سے شفا کے لیے بھی دعا گو ہے مگر بیماری پرصبر سے کام لیتی ہے۔