.

ایم بی سی گروپ کے پیراک سی ای او دبئی کے ’’ورلڈ آئی لینڈز‘‘ کا چکر کاٹیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے مادر نشریاتی گروپ ایم بی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) سام بارنیٹ جمعہ کو پیراکی کا ایک منفرد مظاہرہ کررہے ہیں اور وہ ایک خیراتی ادارے کے لیے ایک لاکھ ڈالرز جمع کرنے کی غرض سے دبئی کے انسانی ساختہ ’’دا ورلڈ آئی لینڈز‘‘ کا تیر کر چکر کاٹیں گے اور اس طرح 23 کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔

سام باقاعدہ پیراک ہیں اور انھوں نے خود کو تن درست وتوانا رکھنے کے لیے یہ شوق اپنایا رکھا ہے ۔ پہلے وہ دوڑتے تھے لیکن کمر کی تکلیف کی وجہ سے ان کے معالج نے انھیں تیز بھاگنے سے منع کردیا تھا۔پھر وہ پیراکی کرنے لگے اور پیراک بن گئے۔

وہ طب کی تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والے خیراتی ادارے الجلیلہ فاؤنڈیشن کے لیے رقم اکٹھی کرنا چاہتے ہیں۔ سام کا کہنا ہے کہ وہ پیراکی کا یہ سفر بارہ گھنٹے میں مسلسل تیر کر طے کر لیں گے اور علی الصباح پانچ بجے یہ مشن شروع کریں گے۔

نخیل امدادی کشتیاں اور ایک طبی ٹیم ان کے ہم راہ ہوگی ۔انھیں اس طویل روٹ پر پیراکی کے دوران میں توانائی کی جَیل اور پینے کا پانی مہیا کیا جاتا رہے گا۔نخیل کے میرین ماہرین بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔

ورلڈ آئی لینڈز انسانی ساختہ تین سو جزائر پر مشتمل ہیں اور یہ گلوب کی طرح ہیں۔یہ ساحل سمندر سے چھے کلومیٹر کے فاصلے پر بنائے گئے ہیں اور پچیس کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہیں۔سام کو ان میں تیرتے ہوئے تندو تیز لہروں کے علاوہ نمکین پانیوں اور مختلف اقسام کی مچھلیوں کا بھی سامنا ہوگا۔

کمر کا درد

انھوں نے کمر کے درد کی تکلیف دور کرنے کے لیے پندرہ سال قبل پیراکی شروع کی تھی۔اس سے قبل وہ دوڑتے رہے تھے۔اس کا آغاز تو انھوں نے تفریح طبع کے طور پر کیا تھا لیکن پھر دوڑ کے مقابلوں میں شریک ہونے لگے تھے۔ انھوں نے دبئی میراتھن اور صحارا میں چھے روزہ 240 کلومیٹر طویل میراتھن دوڑ میں بھی حصہ لیا تھا۔

پھر اچانک ایک انہونی ہوگئی۔انھیں کمر کی شدید درد شروع ہوگئی اور کمر کے نچلے حصے میں ریڑ ھ کی ہڈی میں تھوڑا فرق آگیا تھا۔ ڈاکٹر نے ان کی ایم آر آئی رپورٹ دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہا:’’ اب آپ کو دوڑ کا سلسلہ ختم کردینا چاہیے‘‘۔

سام بتاتے ہیں کہ انھوں نے مئی 2014ء میں معالج کے اس مشورے پر کچھ دن تک غور کیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ اب وہ ایک پیراک بنیں گے۔وہ دبئی میں گذشتہ سولہ سال سے مقیم ہیں ۔اس لیے وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ وہ کہاں تیر سکتے ہیں اور یہ ورلڈ آئی لینڈز تھے۔ انھیں اب نئے مشن میں دبئی اسپورٹس کونسل کی بھی سر پرستی حاصل ہے۔یہ کونسل متحدہ عرب امارات میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔