.

سعودی نوجوان کی ’وائلن ویڈیو‘ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک نوجوان کی وائلن بجانے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ وائلن بجانے کے موقع پر اس کے کھڑے ہونے کے انداز اور دیگر پہلوؤں پر تنقید کے ساتھ ساتھ خوبصورت انداز میں وائلن کے استعمال پر اس کی تعریف بھی کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ ویڈیو فوٹیج پرانی نہیں بلکہ صرف دو روز قبل سوشل میڈیا پر سامنے آئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ اسے ہزاروں افراد نے فالو کیا جب کہ بڑی تعداد میں لوگ اسے پسند کر رہے ہیں۔

فوٹیج میں سعودی نوجوان کے ’اسکچ‘ پر مشتمل ہے۔ اس نے سعودی عرب کا قومی لباس زیب تن کر رکھا ہے۔ وہ ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کراس انداز میں کھڑا ہے کہ اس کا ایک پاؤں بھی پیچھے دیوار پر ہے جب کہ اس نے اپنے کپڑوں کو تھوڑا اوپر اٹھا رکھا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں وائلن ہے جسے وہ عربی انداز میں بجا رہا ہے۔ وائلن بجانے میں مگن سعودی نوجوان کے قریب سے گذرنے والے اس کی تعریف کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کے طور پرکچھ پیسے بھی اس کے سامنے رکھتے ہیں۔

اسکچ کی یہ فوٹیج تبوک شہر کے الموسیٰ آڈیٹوریم کے قریب تیار کی گئی۔ یہ کاوش کسی ایک نوجوان کی نہیں بلکہ اس کی تیاری میں محمد بن سھیہ، فہد الرشیدی، خالد الرشیدی، محمد الغنزی اور وائل خالد شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس فوٹیج پر تنقید اور تعریف دونوں جاری ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وائلن بجا کر پیسے اکھٹے کرنا بھی بھیک مانگنے کی شکل ہے۔ جب کہ اس کی تعریف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ خوبصورت وائلن بجانے والے نوجوان کی حوصلہ افزایی کی جانی چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے اس منفرد تخیل کو پیش کرنے والے نوجوان محمد بن سھیہ البلوی سے رابطہ کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسٹوڈیو سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں وائلن تھی۔ اس کے ذہن میں آیا کہ مغربی ملکوں میں لوگ کھلی سڑکوں پر وائلن بجاتے ہیں اور شہریوں کو محظوظ کرتے ہیں۔

اگر یہ تجربہ ہم کریں تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ہم نے سڑک کے کنارے وائلن بجانے کا پروگرام بنایا۔ جب یہ کام شروع کیا گیا تو کچھ لوگوں نے اسے کوئی نہ دی، بعض نے اسے نا مناسب خیال کیا اور ایسے لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے وائلن بجانے والے نوجوان کی اداس کیفیت کی داد دی اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کے سامنے پیسے بھی ڈالتے رہے۔

اس کا کہنا ہے کہ عوام الناس کی طرف سے ان کے اقدام کو سراہا جانا ان کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر کسی ثالث یا موکل کے چند پیسے کما سکتا ہے تو اس میں کوئی عیب کی بات نہیں۔