.

’تو کیا مسٹر صدام کو ملازمت مل گئی؟‘

صدام حسین کے مصر میں طالب علمی دور کا دلچسپ واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کا عراقی سیاست اور امریکیوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم کیے جانے کے بعد موت کے گھاٹ اتارے جانے تک کے واقعات تو منظر عام پر آتے رہتے ہیں مگر ان کی زندگی سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے میں آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدام حسین کی زندگی میں ان کے طالب علمی دور کا واقعہ ہے۔ مصلوب صدر خود بھی اپنے ساتھیوں کو یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔

سنہ 1960ء کو صدام حسین اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مصر آئے جہاں انہوں نے پہلے مرحلے میں قصر انٹرمیڈیٹ اسکول میں داخلہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا اور جامعہ کے قریب واقع الدقی کالونی میں رہائش اختیار کی۔ یہ کالونی دوسرے عرب ملکوں کے تارکین کے لیے مشہور تھی۔

صدم حسین اکثر کالونی کے ایک کباب ہوٹل میں جاتے۔ مصری مورخ وسیم عفیفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہوٹل میں صدام حسین کی پسندیدہ غذاؤں میں سینڈوچ اور ’اسکالوپ روز بیف‘ ان کی پسندہ ڈشز تھیں مگر وہ سبزیاں اور چاول بہت کم کھاتے۔

صدام حسین کے پاس اکثر سینڈوچ خرید کرنے کے لیے پیسے نہ ہوتے تو وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے ہوٹل جانے کے بجائے ایک کیفے میں چلے جاتے۔ کیفے میں کام کرنے والے اپنے ایک دوست کو کباب ہوٹل کے مالک کے نام سینڈوچ کا پیغام بھجواتے اور ساتھ ہی کہتے کہ گھر سے پیسے آنے کے بعد انہیں رقم ادا کردی جائے گی۔ اس طرح صدام حسین اور ہوٹل مالک کے درمیان ادھار چلتا رہتا۔ صدام حسین بہت تاخیر سے قرض ادا کرتے تاہم ریستوران کے مالک صدام کے آرڈر پر سینڈوچ تیار کراکے فوری روانہ کردیتے۔

جب صدام حسین تعلیم مکمل کرکے واپس عراق لوٹے وہ اس وقت بھی مصری ریستوران کے مالک کے مقروض تھے۔ کچھ عرصہ بعد صدام حسین سابق صدر احمد حسن البکر کے نائب صدر مقرر ہوئے۔ انہوں نے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے محسن مصری ہوٹل کے مالک کو اپنے ایلچی کے ذریعے 10 ہزار ڈالر کے مساوی رقم بھجوائی۔ اس رقم کا بیشتر حصہ ماضی میں کھائے گئے سینڈوچ، برگر اور دیگر کھانوں کی مدت میں کاٹا جانا تھا۔

جب عراقی ایلچی یہ رقم لے کر ہوٹل کے مالک کے پاس آیا تو اس نے ایلچی سے پوچھا کہ’ تو کیا استاد صدام کو ملازمت مل گئی‘۔ بعد ازاں یہ بات ایلچی نے صدام حسین کو بتائی اور محفل میں سب لوگ اس لطیفے پرخوب ہنسے۔ وہ عراق میں تعینات امریکی سفیروں اور دیگر اقارب کو بھی یہ لطیفہ سناتے، خود بھی ہنستے اور دوسروں کو بھی ہنساتے تھے۔