.

مصری گلوکارہ کو دریائے نیل کی 'توہین' مہنگی پڑ گئی

شیرین عبدالوہاب کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان، پیشہ وارانہ بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی معروف مغنیہ شیرین عبدالوہاب کو دریائے نیل کی تحقیر کرنے کی پاداش میں ان دنوں قانونی کارروائی، پیشہ وارانہ بائیکاٹ اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ دریائے نیل مصر کی خوشحالی اور وحدت کی ایک نشانی کے طور پر مشہور ہے کہ جس کے پانی سے مصری کھیت لہللاتے ہیں اور پر متعدد ڈیم بنا کر بجلی بھی بنائی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق محفل موسیقی کے دوران گلوکارہ شیرین عبدالوہاب سے ان کے ایک مداح نے درخواست کی کہ وہ اپنا مشہور گانا سنائیں جس میں دریائے نیل کے پانی سے متعلق ایک مصری محاورہ بھی شامل ہے۔

سوشل میڈیا پر تنقید

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق شیرین نے مداح کو کہا’ کہ دریائے نیل کا پانی پینے سے انسان بیمار ہو سکتا ہے’، ساتھ ہی انہوں نے ایک فرانسیسی منرل واٹر برانڈ کا حوالہ دے کر مداح کو مشورہ دیا 'آپ کو یہ پانی پینا چاہیے'۔

گلوکارہ کے ان ریمارکس پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا، ایک طرف جہاں کچھ لوگوں نے اسے 'قومی وقار کے منافی' قرار دیا، وہیں دیگر کا کہنا تھا کہ اصل مجرم وہ ہیں، جنہوں نے دریائے نیل کو آلودہ کر رکھا ہے۔

شیرین کے خلاف مقدمہ

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوجانے کے بعد ایک وکیل نے گلوکارہ کے خلاق شکایت درج کروائی۔گلوکارہ کو اشتعال آمیز معلومات پھیلانے اور عوامی مفادات کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کا سامنا ہے اور انہیں اگلے ماہ 23 دسمبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہوگا جبکہ الزامات ثابت ہونے پر شیرین کو 3 سال قید اور بھاری جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، تاہم انہیں اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

پابندی اور پیشہ وارانہ بائیکاٹ

دوسری جانب مصر کی مقامی انجمن موسیقاراں نے گلوکارہ کے تبصرے کو 'عزیز مصر کے خلاف مضحکہ خیز مذاق' قرار دیتے ہوئے شیرین پر ملک میں پرفارم کرنے پر بھی پابندی عائد کردی جبکہ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کو بھی گلوکارہ کے گانے نشر نہ کرنے کی ہدایت کی۔

تبصرے پر معافی، اظہار ندامت

بعد ازاں ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے شیرین نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔ ان کا کہنا تھا، 'میرے پیارے مصر اور اس کے بچوں، میں دل کی گہرائیوں سے اُس دکھ کے لیے معافی چاہتی ہوں، جو میری وجہ سے آپ لوگوں کو پہنچا'۔ ان کا مزید کہنا تھا، 'یہ ایک برا مذاق تھا اور اگر مجھے دوبارہ ماضی میں جانے کا موقع ملے تو میں کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کروں گی'۔

واضح رہے کہ انجمن موسیقاراں کے مطابق شیرین کی مذکورہ محفل موسیقی لبنان میں ہوئی تھی، تاہم گلوکارہ کے مطابق یہ ایک سال قبل متحدہ عرب امارات میں ہونے والے پروگرام کی ویڈیو تھی۔