.

’اسامہ بن لادن مہدی منتظر کے ظہور کی راہ ہموار کر رہے تھے‘

ایبٹ آباد سے حاصل ہونے والی دستاویزات میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ’سی آئی اے‘ کی جانب سے حال ہی میں القاعدہ کے بانی لیڈر مقتول اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں قائم مبینہ ٹھکانے سے قبضے میں لی جانے والی دستاویزات شائع کیں۔ ان دستاویزات میں ہاتھ سے لکھی 230 صفحات پر مشتمل ان کی یاداشتیں بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بن لادن کی ان یاداشتوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا اور باریکی سے ان کاجائزہ لیا ہے۔ اس دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض یاداشتیں ہی نہیں بلکہ ان میں بن لادن کی شخصیت کے کئی پراسرار اور خفیہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ تنظیم کے انتظامی امور میں ان کے اختیارات، سیاسی حالات حاضرہ کے بارے میں ان کے تجزیے اور تبصرےاور سب سے بڑھ کر علامات قیامت میں سے ایک سمجھے جانے والے مہدی موعود کی راہ ہموار کرنا جیسے امور بھی ان یاداشتوں کا حصہ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے جائزے کے مطابق دو سو تیس صفحات پر مشتمل ہاتھ سے لکھی یہ کتاب معروف معنوں میں محض یاداشتیں نہیں بلکہ ’مفاد عامہ کی نوٹ بک‘ ہے۔ اس کتاب کا انتساب بن لادن کی ایک بیٹی کے نام کیا گیا ہے۔

انقلابات کے بیان کا مسودہ اور خطاب عشریہ

ایبٹ آباد میں اسامہ کے ٹھکانے سے ملنے والے اس ’نوٹ پیڈ‘ کو لکھنے کی ذمہ داری بن لادن کی بیگم سھام صابر سے ان کی بیٹی مریم کو سونپی گئی تھی۔ یہ نوٹ پیڈ گھر میں بن لادن، ان کی بیگمات اور بچوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے احوال پر مبنی ہے۔ اس میں اہل خانہ کی دلچسپیوں، انکی آراء اور انقلابات کے حوالے سے ان کے خیالات، القاعدہ کے احوال تک کا ذکر کیا گیا ہے۔ یاداشتوں میں سب سے نمایاں چیز’انقلابی بیانات‘ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹرکو تباہ کرنے کے10 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے جاری ’خطاب العشریہ‘ اور القاعدہ رہ نماؤں کے پیغامات شامل ہیں۔

بن لادن کی اہل خانہ سے آخری ملاقات

یادشتوں پر مبنی اس نوٹ پیڈ میں بتایا گیا ہےکہ 1432ھ بہ مطابق 11 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد کی پناہ گاہ میں بن لادن کی ان کے اہل خانہ سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ بن لادن کے قتل سے قبل اہل خانہ کے ساتھ یہ آخری اجتماعی ملاقات تھی۔اس موقع پر بن لادن کی بیگمات اور ان کی بیٹیوں اور بیٹوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد دنیا کےاس سب سے مطلوب شخص تک امریکیوں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور ان کی گولیوں سے بن لادن کا قصہ تمام ہوگیا۔

آخری لمحات میں گھر میں ہنگامہ برپا

امریکی آپریشن کے وقت بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ میں ان کی تین بیگمات خیریہ صابر،[ام حمزہ] سھام صابر[ام خالد] اور امل السادہ کے علاوہ گیارہ بچے موجود تھے۔ امریکی کارروائی کے آغاز میں ان کی اہلیہ سھام صابر مکان کی نچلی منزل کی طرف بھاگیں۔ ان کے ہمراہ ان کا بیٹا 22 سالہ خالد بھی موجود تھا۔ امریکی فوجیوں نے گولیاں مارکر خالد کو قتل کردیا۔ اس کی دو بہنیں مریم اور سمیہ مکان کی بالکنی میں چھپ گئیں، جنہیں بعد ازاں امریکی فوجیوں نے وہاں سےنکال کر گرفتار کیا۔ امریکی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ سے بن لادن کی اہلیہ امل السادۃ کی پنڈلی میں گولی لگی اور وہ بھی زخمی ہوگئیں۔ دیگر افراد بھاگ کر بالائی منزل کی طرف چڑھ گئے کیونکہ بن لادن نے انہیں ایسا ہی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بن لادن کی پیغامات لکھاری سیکرٹری

بن لادن کی ہاتھ سے لکھی یاداشتوں میں ان کے جواں سال بیٹے خالد کا بہ کثرت تذکرہ ملتا ہے۔ وہ اپنے والد سے اکثر سوال جواب کرتا ہے۔ اسی طرح حمزہ بن لادن، اس کی ہمیشرہ سمیہ کا بھی ذکر ہے۔ سمیہ حمزہ سے عمر میں چھوٹی تھی اوراس کی ذمہ داری بن لادن کے پیغامات کو تحریری شکل دینا تھی۔ بن لادن کے تمام صوتی، تحریک اور ویڈیو پیغامات کی نگرانی سمیہ کے ہاتھ میں تھی۔ سمیہ کی جانب سے تیار کی گئی آڈیو اور ویڈیوز الجزیرہ ٹی وی پر نشرکی جاتی تھیں۔

ان ویڈیوز میں بن لادن نے قندھار میں موجودگی کے دوران القاعدہ کی کم زوریوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے امریکی فوج کی مسلسل بمباری، پابندیوں، پاسپورٹس کے مسائل، بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور بیدار قیادت کی عدم موجودگی کے تذکرے بھی شامل تھے۔

طیب ایردوآن کا خواب میں آنا

ایسے لگتا ہے کہ القاعدہ کے بانی سربراہ چاروں شانے چت ہونے کے بعد خوابوں اور سپنوں کی حد تک زندہ رہ گئے تھے۔ وہ اپنے اہل و عیال کو بھی اپنے ’حسین‘ خوابوں کی سیر کراتے اور ان میں امید جگانے کی کوشش کرتے تھے۔

ان کی ہاتھ سے لکھی یاداشتوں میں ان کے کئی خوابوں کا تذکرہ موجود ہے جنہیں وہ لوگوں کے لیے بشارت بھی قرار دیتے۔ان کے بیٹے خالد کے ایک خواب کی تعبیرتیونس میں انقلاب بتائی گئی۔ اسی طرح خوابوں میں عبدالمجید الزندانی کا خواب، اھل عامر اور اس کے ساتھیوں کو خواب میں دیکھنا، وغیرہ۔ بن لادن کی ایک بیٹی نے بتایا کہ اس نے خواب میں اپنے والد کو ترک لیڈر طیب ایردوآن کے ساتھ دیکھا۔ اس کی دو تعبیریں کی گئیں۔ رجب سے مراد ماہ رجب 1432ھ میں القاعدہ اور بن لادن فیملی کے لیے حالات سازگار ہونا اور دوسرا یہ کہ طیب ایردوآن سے اچھے کام سرزد ہوں گے جیسی ممکنہ تعبیریں بتائی گئیں۔

ابو بلال کا خواب اور القاعدہ رہ نما

بن لادن اپنی اور اہل خانہ کی خوابوں کو نہ صرف مبشرات قرار دیتے بلکہ اپنے سابقہ فیصلوں پر بھی ان کی تطبیق کرتے۔ ان میں ایک خوف ناک خواب جس کا تذکرہ یاداشتوں میں شامل ہے وہ شمالی سوڈان سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے ایک رکن عبدالوکیل المعروف ابو بلال کا خواب تھا۔ ابو بلال نے یہ خواب بن لادن کو کابل میں ایک اجلاس کے دوران سنایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ بن لادن اپنی ذات اور شخصیت میں ’القحطانی‘ ہیں۔ بن لادن نے اس کی تعنیر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مہدی منتظر کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔

گویا وہ اپنے مہدی منتظر ہونے کی راہ بھی ہموار کررہے تھے، کیونکہ روایات میں یہ بات موجود ہے کہ مہدی موعود ایک ہی وقت میں قحطانی اور یمانی نسل سے ہوگا۔ وہ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ کے نزول ثانی کے وقت دجال سے لڑے گا۔ یہ قیامت کے قریب کا زمانہ ہوگا اور اسے مہدی کو قیامت کی نشانی قرار دیا جائے گاْ۔ بن لادن نے ایک اور موقع پر بھی کہا تھا کہ میں ’قحطانی‘ ہوں مگر بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔

انٹرنیٹ پر بن لادن کے نام منسوب ایسے کئی ویدیو کلپس بھی موجود ہیں جن میں وہ خود اور ان کے پیروکار انہیں مہدی موعود قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض ویڈیوز میں بن لادن کو القحطانی اور الیمانی قرار دیا گیا ہے۔

بن لادن کے ٹھکانے سے ملنے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں بن لادن تیونس، لیبیا، مصر، شام، یمن، بحرین اور سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ القاعدہ کو جلد نصرت حاصل ہوگی۔ تاہم یہ ایک الگ حقیقت ہے کہ عالمی تعاقب کے کئی سال کے بعد بن لادن کے قتل کےبعد ’عرب بہاریہ‘ کا آغاز ہوگیا۔

یاداشتیں لکھنے میں مریم کی والدہ سھام صابر نے بھی بیٹی کی مدد کی۔ مریم کے دوسرے بہن بھائیوں میں خالد ، سمیہ، خدیجہ نائن الیون کے بعد کچھ عرصہ ایران میں بھی قیام پذیر رہیں۔ بن لادن کی ایک بیوی خیریہ اور اس کی بڑی بیٹی خدیجہ وزیرستان میں وفات پا گئی تھیں۔