.

مردوں کا خاموش قاتل : پروسٹیٹ کینسر کی علامات جانیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پروسٹیٹ یعنی مثانے کے غدود کا سرطان سست رفتاری سے بڑھتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو ابتدائی مراحل میں علامات محسوس نہیں ہوتی ہیں۔ یہ کیفیت برسوں تک جاری رہتی ہے تاہم نمو پانے کے ساتھ یہ سرطان انسانی جسم کے وظیفوں کی انجام دہی میں نمایاں طور پر رکاوٹ ڈالتا ہے۔

اس کا پہلا اثر پیشاب کرنے کے عمل پر ظاہر ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ سے مجری البول (مثانے سے پیشاب باہر نکالنے والی نالی) پر دباؤ آتا ہے جس سے پیشاب کے وقت پٹھوں پر شدید بوجھ پڑتا ہے۔ مریض کو مثانے کے مکمل طور پر خالی نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے اور پیشاب میں خون بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ان علامات کے ظاہر ہونے کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مریض سرطان میں مبتلا ہے بلکہ اس کی وجہ پروسٹیٹ کا پھول جانا بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

یہ سرطان مثانے یا آںتوں پر قابو کھو دینے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ کمر کے نیچے کے حصے میں اور رانوں میں تکلیف بھی پیدا کرتا ہے۔ اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی چیز ہڈیاں ہوتی ہیں۔ بالخصوص کولھے کی ہڈّی ، کمر کے نیچے اور ریڑھ کی ہڈی شامل ہے۔

بعض انتہائی نادر حالات میں مریض بلند فشار خون ، تھکن اور وزن کی کمی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔

پروسٹیٹ یعنی مثانے کے غدود کا سرطان مردوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا دوسرا اہم ترین سرطان ہے۔ سال 2012 میں مشرق وسطی میں اس کے 29 ہزار مریضوں کی تشخیص ہوئی۔ سال 2012 میں ہی پروسٹیٹ کینسر کے سبب 15 افراد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس مرض کی تشخیص کی اوسط عمر 67 برس ہے۔