.

ڈی این اے نے قتل کے مجرم کی 39 سال قید کے بعد بریت ثابت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں دہرے قتل کے جرم میں 39 سال سے جیل میں قید ایک شخص کو گذشتہ روز اس وقت رہا کردیا گیا جب ’ڈی این اے‘ کے ذریعے ثابت ہوا کہ ایک خاتون اور اس کے بچے کے قتل میں وہ شخص ملوث نہیں۔ اسے چار عشروں تک ظلم کے ساتھ جیل میں قید رکھا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کریگ کولی کا تعلق کیلیفورنیا ریاست کے سیمی فالی علاقے سے ہے۔ اسے سنہ 1978ء کو ایک خاتون اور اس کے بچے کو قتل کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مدعین اور سیمی فالی کی پولیس کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کے گورنر جیری براؤن نے 70 سالہ ملزم کی سزا بدھ کو معاف کردی تھی جس کے بعد اسے گذشتہ روز رہا کردیا گیا۔ مقامی انتظامیہ نے گورنر کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

گورنر براؤن نے کولی کی رہائی کی دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے لکھا کہ ’جس طریقے سے کولی پر جرم کا الزام عاید کیا گیا اور اس نے طویل ظالمانہ سزا پر صبر اور بردباری کا مظاہرہ کیا وہ حیران کن ہے۔ میں اس موقع پر یہ لکھ کر گواہی دے رہا ہوں کی کولی کو دی گئی سزا غلط تھی، آج سے وہ بری ہے اور وہ ان دونوں کیسز میں ملوث نہیں‘۔

خیال رہے کہ امریکا میں جیلوں میں قید ملزمان کی بریت کے ثبوت کے لیے ڈی این اے کی مدد سے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اب تک اس پروگرام کے ذریعے 350 ملزمان کی بریت ثابت کی جاچکی ہے۔ یہ پروگرام غلطی سے دی گئی سزاؤں کو ختم کرنے اور بے گناہ لوگوں کو قید سے آزاد کرانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ اب تک ڈی این اے کی مدد سے جن ملزمان کی بریت ثابت ہوچکی ہے، ان کی اوسط سزا 14 سال کے لگ بھگ تھی۔

آج سے انتالیس سال قبل کولی پر اس کی سابق گرل فرینڈ رونڈا ویچٹ اور اس کے چار سالہ بیٹے ڈونلڈ کو قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ملزم نے پہلے بھی صحت جرم سے بار بار انکار کیا تھا مگر امریکی ’نظام انصاف‘ نے اسے بھی انتالیس سال تک بے گناہ جیلوں میں بند کیے رکھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کی جو سہولت آج میسر ہے وہ ملزم کو سزا دینے کے وقت موجود نہیں تھی۔ ڈی این اے کی مدد سے کچھ دوسرے افراد اس دہرے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ مقتولین کے ورثاء اس کیس از سر نو عدالت میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔