.

ایرانیوں کا شام کی لڑائی میں کم سن بچے جھونکنے پر اظہار ِفخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے ایک کم سن جنگجو بچے کی ویڈیو نشر کی ہے۔اس میں وہ شام میں لڑائی کے لیے بھیجے کے بارے میں گفتگو کررہاہے۔

اس ویڈیو میں اس نوعمر فوجی سے رپورٹر پوچھتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہوگی؟ اس پر وہ کہتا ہے:’’13 سال‘‘ ۔اس لڑکے کے ساتھ ایک اور مسلح شخص یہ کہہ رہا ہے:’’ یہ سب سے کم عمر جنگجو بچہ‘‘ ہے۔

ویڈیو میں نمودار ہونے والے بچے کا تعلق ایران کے شمالی صوبے مازنداران سے ہے ۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے زیر اثر شام میں لڑائی کے لیے آیا تھا اور وہ سرحدی قصبے ا لبوکمال میں داعش کے خلاف لڑائی کے دوران میں موت کے خطرے سے آگاہ تھا۔

ایک ایرانی کارکن کا کہنا تھا کہ ’’اس بچے کو اب اسکول میں ہونا چاہیے جہاں یہ کھیلے اور جنگی محاذ پر نہیں ہونا چاہیے‘‘۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شام میں لڑائی کے لیے ایران میں بچوں کی بھرتی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور ایران کا نام بچوں کے حقوق پامال کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کریں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اکتوبر میں جاری کردہ اس رپورٹ میں بتایا تھا کہ شام میں لڑائی کے لیے ایران میں چودہ سال کی عمر تک بچوں کو بھی بھرتی کیا جا رہا ہے۔ وہ قریباً چودہ ہزار جنگجو ؤں پر مشتمل افغان مسلح گروپ میں شامل ہیں۔وہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغیو ں کے خلاف لڑرہے ہیں۔