.

جزیرہ سیناء میں دہشت گردی پھیلنے کے کیا اسباب ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیس جون 2013ء کو مصرمیں پہلے منتخب صدر محمد مُرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اخوان المسلمون نے انتقامی کاررائیوں کے لیے دہشت گردی کا سہارا لیا۔ اگرچہ یہ انتقامی کارروائیاں مصر کے تمام شہروں میں دیکھی گئیں مگر جزیرہ سیناء خون ریز واقعات میں دوسرے مصری علاقوں پر سب سے آگے رہا ہے۔

اخوان رہ نما محمد البلتاجی نے قاہرہ کے رابعہ العدویہ گراؤنڈ میں دیے گئے دھرنے کے دوران دھمکی دی تھی کہ جزیرہ سیناء میں تشدد کا خاتمہ محمد مُرسی کی حکومت کی بحالی سے ممکن ہےورنہ ملک میں کشت وخون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردوں کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف جزیرہ نما سیناء ہی دہشت گردوں کا مرکز کیوں ہے۔ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لیے اس جزیرے ہی کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔

مخصوص طبعی، جغرافیائی محل وقوع اور قبائل

مصری پارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹر سمیرغطاس نے جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جزیر نما سیناء اپنے طبعی حالات، جغرافیائی محل وقوع اور مخصوص قبائلی طرز زندگی کی وجہ سے بھی دہشت گردوں کا مرکز ہے۔ مذکورہ تینوں خصوصیات جزیرہ نما سیناء کو مصرکے دوسرے علاقوں سے جدا کرتی ہیں۔ نیز فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے متصل ہونا اور اسرائیل کے ساتھ اس کی سرحد ملنے سے بھی یہاں دہشت گردوں کی کاررائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جزیرہ نما سیناء ایک وسیع وعریض علاقہ ہے جس کا بہت بڑا علاقہ آبادی سے خالی اور ویران ہے۔ ایسے ویران علاقے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بننا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ یہاں چھپے دہشت گرد مصر کے مختلف شہروں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ انہیں غزہ کی پٹی کی طرف کھودی گئی سرنگوں کا سہارا بھی مل جاتا ہے اور وہ اخوان المسلمون کی حکومت کا انتقام لینے کے لیے حکومتی تنصیبات پر حملے کرتے، سیکیورٹی فورسز کونشانہ بناتے حتیٰ کہ مساجد اور عبادت گاہوں پر بھی حملوں سے نہیں چوکتے۔

مصری تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سرگرم بعض دہشت گرد گروپوں کے بھی جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردوں کے ساتھ روابط ہوسکتے ہیں۔ دونوں طرف کے شدت پسند ایک دوسرے کے اسلحہ اور دیگر جنگی سامان میں مدد بھی کرتے ہیں۔

مصری فوج نے غزہ کی سرحد پر کھودی گئی سرنگوں کا نیٹ ورک کسی حد تک ختم کردیا ہے۔ مگر اس کے باوجود شام کےشہر الرقہ، عراق کے موصل کی طرح داعشی دہشت گردی جزیرہ سیناء کو بھی اپنی نام نہاد خلافت کا حصہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

سید قطب کے اثرات

اسلامی جماعتوں کے امور کے محقق اور دانشور منیر ادیب نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جزیرہ سیناء میں دہشت گردی کے پھیلنے کے کئی اسباب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی سوچ کافی پرانی ہے اور وہی پرانی تاریخ اب بھی دہرائی جا رہی ہے۔

جزیرہ نما سیناء کے سماجی ڈھانچے ’معالم الطریق‘ کے مصنف اور اخوان المسلمون کے رہ نما سید قطب کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ اخون المسلمون میں سید قطب کو خونی نظریات کا قائل رہ نما سمجھا جاتا تھا۔ سابق مصری صدر جمال عبدالناصر کے ساتھ اختلافات کے بعد سید قطب بھاگ کر جزیرہ سیناء میں چلے گے۔ اگرچہ انہوں نے جزیرہ سیناء میں زیادہ عرصہ نہیں گذرا مگر وہ اس علاقے میں اپنے افکار ونظریات کو پھیلانے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

منیر ادیب کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی ایک اہم وجہ غزہ کی پٹی کے ساتھ متصل ہونا ہے۔ جغرافیائی اعتبارسے جزیرہ سیناء غزہ سے متصل ہونے سے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا اس لیے مرکز ہے کہ سرحد کے دونوں طرف قریبا ایک ہی جیسی سوچ کے حامل لوگوں کے پائے جانے کے امکانات رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جزیرہ نما سیناء میں ترقیاتی منصوبوں کے فقدان نے بھی یہاں پر دہشت گردوں کو انڈے بچے دینے کا موقع مہیا کیا۔

ایک سوال کے جواب میں مصری تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ جزیرہ نما سیناء میں دہشت گرد گروپ ’تکفیر والجہاد‘ کے نام سے سرگرم رہا ہے۔ مگر اس گروپ میں سرحد کی دونوں طرف موجود پائے جانے والے سلفی جہادی عناصر کی شمولیت کے بعد اس گروپ کے نظریاتی تو تکفیری ہی رہے مگر انہوں نے تنظیم کا نام تبدیل کرکے’التوحید والجہاد‘ رکھ دیا۔

موجودہ حالات میں جزیرہ نما سیناء میں دہشت گردی کے فروغ کی ایک وجہ داعش کے بڑھتے اثرات ہیں۔ توحید والجہاد جیسے تکفیری گروپ داعشی افکار کے بہت قریب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ داعش نے جزیرہ نما سیناء کے اس گروپ کو بھی گود لے لیا اور ہر دہشت گردانہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔

سنہ 2014ء میں عراق اور شام میں ابو بکر البغدادی کی قیادت میں داعشی خلافت کے قیام کے بعد جزیرہ نما سیناء کے مسلح گروپوں نے بھی داعش کا کھلے عام پرچارک شروع کردیا۔