.

غریبوں کا ’پیزا‘ یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل!

سعودی عرب میں مروج آرائشی آرٹ بھی ’یونیسکو‘ کی فہرست کا حصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے اٹلی کے تیسرے بڑے شہر ’ناپولی‘ میں آج سے کئی سو سال پہلے تیار ہونے والے روایتی کھانے ’پیزا‘ کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ پیزا کے ساتھ سعودی عرب میں ایک روایتی آرٹ ’عسیری نقش ونگار‘ بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’پیزا‘ کے شوقین افراد کے لیے یہ ایک دلچسپ خبر ہے کہ ان کی پسندیدہ ڈیش کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے جزیرہ جیجو میں ہونے والے اجلاس میں 34 رکن ملکوں کی طرف سے ’پیزا‘ کو یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل کرنے کی درخواست دی گئی تھی۔

’پیزا‘ کی عالمی ثقافتی ورثے میں شمولیت پر جمعرات کو اطالوی شہری خوشی سے جھومتے سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس خوشی میں راہ گیروں میں پیزے تقسیم کیے۔

خیال رہے کہ پیزا اٹلی میں ایک روایتی روٹی کے طورپراستعمال ہوتا تھا۔ فلیٹ شکل کی اس روٹی پر گوشت کا پیسٹ شامل کیا جاتا۔ نرخ میں ارزاں ہونے کی بدولت اسے غریبوں کی خوراک کہا جاتا تھا۔

اٹلی کے شہر ناپولی میں پیزا اسی دور میں داخل ہوا جب امریکا سے ٹماٹر وہاں پہلی بار متعارف ہوئے۔ اطالوی مورخین کے مطابق اٹلی میں پہلے ٹماٹر پیزا ریستوران اٹھارہویں صدی میں متعارف ہوئے تھے۔ مگر اس ڈیش کو زیادہ مقبول بنانے میں مزید ایک صدی کا عرصہ لگا۔

اٹلی کی ملکہ مارگریٹا اور ان کے شوہر شاہ امبرٹو اول نے 1889ء میں ناپولی کے باشندوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے پیزا کا ذائقہ چکھا ورنہ اسے غریبوں کی خوراک کہا جاتا تھا۔

یونیسکو نے پیزا کے ساتھ سعودی عرب کے ایک روایتی آرٹ کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا ہے۔

’نقش العسیری‘ آرٹ سعودی عرب میں گھروں کی دیواروں کی تزئین و آرائش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فن سعودی خواتین کا ایجاد کردہ ہے۔

خیال رہے کہ یونیسکو کے زیرانتظام غیر مادی پروگرام 2003ء میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یونیسکو بعض ممالک کو ان کے ہاں موجود ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مالی معاونت بھی کرتی ہے مگر بعض ثقافتی فنون کے لیے مالی مدد نہیں کی جاتی تاہم انہیں عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔