.

مشاہیر جو القدس چھوڑنے کے بعد بھی القدس ہی کے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے تاریخی شہر بیت المقدس میں پیدا ہونے والے مشاہیر جو القدس چھوڑ گئے مگر القدس نے انہیں کھبی نہیں چھوڑا۔ ان مشاہیر کو القدس سے نکال دیا گیا یا وہ خود وہاں سے چلے گئے مگر ان کے دل ودماغ سے القدس کی محبت کبھی ختم نہیں ہوئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیت المقدس میں جنم دینے والے ان مشاہیر کے حوالے سے ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں نام کمانے والے ایسے مشاہیر اپنی عرت، مزاحمت اور دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے القدس کے لیے ایک زندہ علامت بن گئے۔

انہی مشاہیر میں عربی ادب کے مفکر اڈورڈ سعید ہیں جو یکم نومبر 1935ء کو القدس میں پیدا ہوئے۔ سعید تعلیم کے حصول کے لیے امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی زبان وادب اور تقابلی ادب کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔

امریکی صحافی رابرٹ فسک کے بہ قول امریکا میں رہتے ہوئے پروفیسر سعید قضیہ فلسطین کے دفاع کی ایک موثر آواز تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ادبی تہذیب پر سنہ 1978ء کو جاری ہونے والی ایک کتاب کی وجہ سے بھی شہرت حاصل کی۔

ادوارد سعید نےایک فلسطینی ہونے کی وجہ سے اپنا تجربہ بیان کیا۔ فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد انہوں نے فلسطینی ریاست کےقیام کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔ امریکا اور اسرائیل پر فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہے۔

وہ بیرون ملک فلسطین نیشنل کونسل کے بھی رکن تھے۔ آخری عمر میں سرطان کے مرض کا شکار ہوئے اور 2003ء میں انتقال کرگئے۔

ناصرالدین النشاشیبی کا شمار فلسطین کے مورخین اور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ وہ 1919ء کو بیت المقدس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے زندگی کا طویل عرصہ مصر میں گذارا جہاں وہ مصری اخبار الجمہوریہ کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اردنی ریڈیو میں ڈائریکٹر کی خدمات اوعر عرب لیگ میں فلسطینی وفد کے سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

ناصر الدین النشاشیبی 50 سے زاید کتابوں کے مصنف تھے اور ان کی بیشتر کتب فلسطینیوں کے حقوق اور قضیہ فلسطین سے متعلق تھیں۔

القدس میں آنکھ کھولنے والے مشاہیر میں محمود شقیر بھی اپنی نمایاں پہنچان رکھتے ہیں۔ محمود شقیر 1941ء کو القدس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سنہ 1965ء میں جامعہ دمشق سے فلسفہ اور سماج کے موضوع پر ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصے تک اردنی مصنفین لیگ کے نائب صدر رہے۔ اس کے علاوہ وہ فلسطین نیشنل کونسل کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔

محمود شقیر کئی عرب اخبارات اور جرائد کے چیف ایڈیٹر رہے۔ وہ 45 کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے عرب ٹی وی فلموں کے لیے کہانیاں بھی تحریر کیں۔

جمانہ الحسینی بھی القدس کی مشاہیر میں شامل ہیں جنہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ القدس سے باہر گذرا۔ ان کی پیدائش 1932ء کی ہے۔ جمانہ الحسینی فلسطین کی فائن آرٹ کی فنکارہ تھیں۔ سنہ 1060ء میں سرسق میویزم میں لگنے والی نمائش کے بعد وہ مسلسل اس نمائش میں حصہ لیتی رہیں۔

انہوں نے پینٹنگ، مجسمہ سازی اور چینی کی ظروف پر کشیدہ کاری کا فن بیروت میں امریکی یونیورسٹی میں اپنے طالب علمی کےدور میں سیکھا۔ سنہ 1965ء میں اپنے فن پاروں کو نمائش کے لیے پیش کیا۔

ان کے فائن آرٹ کے نمونوں میں القدس کی گلیوں، بازاروں، بستیوں کا رنگ جھلکتا، گھوڑے، شاہین، شیر بھی بہ کثرت دیکھنے کو ملتے۔ یہ انقلاب اور فلسطینیوں کے حق واپسی کی علامت قرار دیے جاتے۔

کمال بلاطہ 1942ء کو بیت المقدس میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار بھی فلسطین مصوروں اور فائن آرٹ کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے فائن آرٹ کے تخلیقی نموں میں القدس کے باب الخلیل، القدس کے فن تعمیر اور اس کی پرانی عمارتوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔

انہوں فائن آرٹس کی تعلیم روم سے حاصل کی۔ اس کے بعد واشنگٹن چلے گئے۔ سنہ 1970ء میں کورکوران کالج سے تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے اپنے فن کے نمونوں کو پیش کرنے کے لیے القدس، عمان، ابو ظہبی، منامہ، بغداد، رباط، پیرس، ماسکو، اوسلو، ٹوکیو، لندن، ایمسٹرڈیم اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں نمائشوں کا اہتمام کیا۔