.

غلاف کے بغیر خانہ کعبہ کیسا دکھتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کے مسلمان دن میں پانچ بار نماز کی ادائی کے دوران خانہ کعبہ کی جانب قبلہ رخ ہوتے اور نماز ادا کرتے ہیں۔ مسجد حرام میں موجود نمازی خانہ کعبہ کا دیدار بھی کرتے ہیں مگر زمین پر اللہ کے اس عظیم المربت گھر کو 22 ملین سعودی ریال کی لاگت سے 10 ماہ کی محنت شاقہ سے تیار کردہ ایک غلاف سے ڈھانپا گیا ہے۔ عموما خانہ کعبہ کو غلاف کے ساتھ ہی دیکھا جاتا ہے مگر کیا کبھی خانہ کعبہ کو غلاف کے بغیر بھی دیکھا گیا ہے۔

تو لیجیئے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے آپ کے لیے خانہ کعبہ کے بنا غلاف دیدار کا اہتمام کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی طرف سے غلاف کے بغیر شائع کی گئی نایاب تصاویر 1940ء میں لی گئی تھیں۔ غلاف چڑھانے سے قبل خانہ کعبہ کی سرخ ایںٹوں سے مزین دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے سرکاری سطح پر غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک شعبہ قائم کیا گیا ہے۔غلاف کعبہ مخصوص کارخانے میں تیار ہوتا ہے۔ غلاف کی تیاری میں 670 کلو گرام قریبا سترہ من ریشم اور سیکڑوں کلو گرام سنہری دھاگہ استعمال ہوتا ہے۔ غلاف کعبہ پر مخصوص آیات اور کلمات منقش کرنے کے لیے سنہری دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کے 14 میٹر طویل اور 95 سینٹی میٹر چوڑے 47 رول بنائے جاتے ہیں۔ اس کی پٹی پر قرآنی آیات،’یا حی یا قیوم، یا رحمٰن یا رحیم الحمد اللہ رب العالمین‘ جیسی عبارات تحریر کی جاتی ہیں۔

غلافہ کعبہ کے لیے قائم کردہ کارخانے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد عبداللہ باجودہ کا کہنا ہے کہ روایت کے مطابق ہرسال ذی الحج کے شروع میں غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ سدنہ کبیر کو نیا غلاف حوالے کیا جاتا ہے جس کےبعد 9 ذی الحج کو پرانا غلاف اتار کر نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔ نماز عصر تک غلاف کعبہ کی تبدیلی مکمل کرنا ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پرانے غلاف کارخانے میں محفوظ کرلیے جاتے ہیں۔ غلاف کی تیاری میں 240 ہنر مند اور منتظمین حصہ لیتے ہیں۔ غلاف کا کپڑا رنگنے، دھاگے کی تیاری، سلائی کڑھائی اور دیگر تمام امور جدید آلات کی مدد سے پیشہ وارانہ انداز میں انجام دیے جاتے ہیں۔ غلاف کعبہ کی سلائی کے لیے استعمال ہونے والی مشین 16 میٹر لمبی ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشین ہے۔